عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 766 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 766

مسیح موعود کی بعثت کی اغراض بعثت کا مقصد ۸،۹ میں صدی کے سر پر اس لئے بھیجا گیا ہوں تا کہ اسلام کو جمعیت عطاکروں اور قرآن اور نبی کریمؐ پر جوحملے ہوئے ہیں ان کا دفاع کروں ۸ خدا کی طرف سے مبعوث ہونے کا دعویٰ اور خدا کی طرف سے نبی کریمؐ کی مدت کے برابر ۲۳برس تک وحی ملنے کا ذکر ۲۰۲ کشتی بیعت تیار کرنے کا حکم ۲۲۶ مسیح موعود کی جلالی آمد کا وقت ۶۲۹ مسیح موعودؑ اور مخالفین بعض علماء کابخل اور تکبر کے باعث آپ کو قبول نہ کرنا ۱۰ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم میں اور ہمارے مخالفین میں اس کے ذریعہ فیصلہ کردے ۸۱ علماء کو انفرادی طور پر فی البدیہہ قرآن کی کسی سورۃ کی تفسیر کے لکھنے کے لئے مقابلہ پر بلایا لیکن کسی نے قبول نہ کیا ۲۳،۲۴ اگر بادشاہ علماء کا لشکرقرآن کی تفسیر کے لئے میرے مقابلہ پر تیار کرے تو پھر بھی وہ کامیاب نہیں ہوں گے ۳۰،۳۱ قرآن مجید کی کسی سورۃ کی عربی تفسیر لکھنے کے لئے مخالف علماء کو مقابلہ کے لئے دعوت دینا ۴۳۱ح مخالفین کو مقابلہ کے لئے بلانا مگر ان کا پیچھے ہٹنا اور فرار کی راہ اختیار کرنا ۶۵،۶۶ مخالفین کی جان توڑ مخالفت کے بالمقابل آپ کے ساتھ خدا کی معجزانہ تائید کا ثبوت ۴۰۸ مخالفین کا آپ کو کذاب،دجال اور بے ایمان قرار دینا ۴۲۷ اہل حدیث یعنی حنفی لوگوں کا حضرت مسیح موعود ؑ پر لعنتوں کی مشق کرنا ۳۸۰ دشمنوں کا مجھ کومقابل رکھ کر خود جھوٹے کے لئے دعا کرنا اور خود مارے جانا ۴۶۶ح آپ کی تصنیفات (نیز دیکھئے کتابیات) میری ساری کتابیں خدا کی مدد سے ہیں ۱ اللہ تعالیٰ نے میرے قلم اور کلمات کو معارف اور نکات کا منبع بنایا ہے ۲۲ ہم ایک حرف بھی اللہ کی مدد کے بغیر نہیں لکھ سکتے تھے ۱۹۸ آپ کی تحریرگوعربی ہویا اردویا فارسی دو حصہ پر منقسم ہوتی ہے ۴۳۴ انشا پردازی اور نظم و نثر میں مقابل پر آنے والوں کے لئے انعام کا وعدہ حلفی ۴۴۹ نشانات صداقت کرامات میں سے جو عجائب مجھے دیے گئے ہیں ان میں سے میرا کلام معجزات میں شامل ہے ۳۰ خدا کی طرف سے تلوار کی بجائے برہان اور بیان کا بطور نشان ملنا ۲۲،۲۳ آپ ؑ کی صداقت کی دلیل ۲۰۲ لیکھرام کی موت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا یہ بندہ اس کی طرف سے ہے ۵۲۳ آپ سے موت ہٹائے جانے پر آپ کی زندگی کا ہر ایک سیکنڈ ایک نشان ہونا ۶۱۳ آپ کے ہاتھ سے ہزارہا روحانی مردے زندہ کئے گئے ۶۱۴ آپ کو آسمانی نشانوں اور دوسرے دلائل کی تلوار دی گئی ہے ۶۱۶ مسیح موعود اور مہرعلی شاہ گولڑوی خط لکھ کرمہرعلی کا یہ شرط لگانا کہ تفسیر لکھنے سے قبل میرے ساتھ مباحثہ کریں ۲۴،۲۵ آپ ؑ کا مہرعلی کے مقابلہ کے لئے لاہور جانے کے لئے مشورہ لینا ۲۶،۲۷ اے گولڑوی تُو جان لے کہ آسمان نے تجھے اس لیے میری طرف بطور ہدیہ بھیجا ہے تا کہ تُوزمین میں عبرت کا نشان ٹھہر جائے ۳۱ گولڑوی کے لاہور آنے کے بعد لوگوں کا سب و شتم میں حد کر دینا اور بالآخر ان کی نجات کے لئے تفسیر لکھنے کا ارادہ ۳۵،۳۶ گولڑوی کی علمیت کے اظہار کے لئے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کو بغرض امتحان اختیار کرنا ۴۱