عصمتِ انبیاءؑ — Page 739
مضامین آ، ا آخرین نبی کریم ؐ کی وہ برکات جن کا آپؐ کے ذریعہ آخرین میں ظہور ہوا ۶،۷ آریہ آریوں کے نزدیک پرمیشر روحوں کا پیدا کرنے والا نہیں ۵۳۶ مسلمانوں کے خدا کا ہندوؤں کے مصنوعی پرمیشر پر غلبہ ۵۵۳ آسمان کوئی آسمان تک نہیں پہنچا سکتا مگر وہی جو آسمان سے آتا ہے ۴۷۲ آسمان پر ایک روحانی تیاری ۶۲۴ زمین کی تاریکی اور آسمان کے نور کی ایک انتہائی جنگ ۶۲۵ آواگون اواگون یعنی شامت اعمال سے جون بدلنا آریہ صاحبان کے گلے پڑا ہوا ہے ۵۳۶ استغفار استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی ۶۷۱ ہر وقت اور ہر آن مدد مانگنے کا نام استغفار ۶۷۶ استغفار کے معنی ۶۷۶ استغفار کے ایک معنی گناہ کی سزاسے بچائے جانے کے ہیں ۶۷۶ کمزوری فطرت کے مرض کا علاج استغفار ۶۷۶ بشریت کی کمزوری کے لئے خدا سے طاقت مانگنے کے لئے استغفار ہے ۶۷۷ خدا سے طلب کرنا استغفار ہے ۶۷۷ دنیا میں گناہ کا وجودنہ بھی ہوتا تب بھی استغفار ہوتا ۶۷۲ استغفار انسان کی طبعی ضرورت ہے ۶۷۲ استغفار صفت قیومیت سے فیض حاصل کرنے کے لئے ہے ۶۷۲ استغفار کے ذریعہ کمزور انسانی فطرت طبعاً خدا تعالیٰ سے طاقت طلب کرتی ہے ۶۷۲ اعلیٰ درجہ کے مقام عصمت اور شفاعت کے لئے استغفار ضروری ہے ۶۷۳ استغفار سے الہٰی طاقت حاصل کرنے کے لئے تضرع اور خشوع ضروری ہے ۶۷۴ استغفار کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کرنے والا ہی معصوم کامل ہے ۶۷۴ مداومتِ استغفار ذنب پر فتح پانے کی دلیل ہے ۶۷۶ اسلام علماء سوء کا فتنہ اسلام کے لئے سب سے بڑا فتنہ ہے ۱۳ اس زمانہ میں علماء سوء اورپادریوں کے حملوں کی وجہ سے اسلام کی بری حالت کا ذکر ۱۷تا۱۹ پادریوں کے اسلام کے خلاف حملے ۱۷،۱۸ اس زمانے کے وہ ضروری امور جن کا دین محتاج ہے ۲۱ اسلام کے دشمنوں کا مخالفت کا طریق ۲۲ اللہ تعالیٰ کااس سلسلہ کے آخری زمانہ کو موسیٰ کے خلفاء کے آخری زمانہ سے تشبیہ دینا ۱۲۲ اس سلسلہ کا آخری زمانہ مالک یوم الدین کی حقیقت کا مظہرہونا ۱۲۲ اس زمانہ میں اسلام کی غربت کا ذکر ۱۵۱،۱۵۲ اس زمانہ میں اسلام کی غربت اوراس پروارد مصائب ۱۵۴تا۱۵۸ سورۃ فاتحہ کی چاروں صفات کا اسلام کے آغاز اور آخرین میں ظہور ۱۵۳،۱۵۴ آخرین میں صفات اربعہ کا دینی اور دنیاوی لحاظ سے ظہور ۱۵۸تا۱۶۰ ضعف و غربت اسلام کا ذکر اور بعثت مسیح موعود ۳۰۰،۳۰۶،۳۰۷ اسلام کوایک ایسے آدمی کی ضرورت ہے کہ اسے غیب سے وہ کچھ دیا گیا ہو جو اور کسی کو نہیں ملا اوروہ موفق و منصور انبیاء ہو۔وغیرہ اوصاف ۳۲۷ اس وقت اسلام کو ایسے مردِمجاہد کی ضرورت ہے جوتائید یافتہ ہواور نبیوں کا وارث ہو ۳۲۷ اسلام پر طرح طرح کے حملے اور بلاؤں کے نازل ہونے کے بعد اللہ کا مسیح نازل ہوا ۳۲۲ مخالف مولوی جس اسلام کو پیش کررہے ہیں وہ صرف پوست ہے نہ کہ مغز ۴۷۰ حقیقی اسلام سے شکل بدل جاتی ہے اور دل میں ایک نور پیدا ہوتا ہے ۴۷۲ لیکھرام کی لاش اسلام کی سچائی کا زندہ ثبوت ہے ۵۵۳ اسلام کے بغیر کسی جگہ نجات نہیں ۵۸۴ باوانانک کا خدا کے الہام سے اسلام کی سچائی معلوم کرنا ۵۸۴ اسلام کا تنزل شیطان کے چھوٹنے پر یعنی ۱۰۰۰عیسوی کے بعد ۶۲۶ اسلام کی پیدائش شیطان کے قید ہونے کے دنوں میں ۶۲۶ اسلام کا اپنے پاک اصولوں کے لحاظ سے تنزل کی حالت کی طرف مائل ہونا ۶۲۶ تلوار کے ذریعہ سچائی کے جوہر دکھلانے والے اسلام کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں ۶۳۰ بت پرستوں کے مقابل پرکس قدر اسلام معقولیت اور صفائی رکھتا ہے ۶۳۱ لوگوں کواسلام سے منحرف کرنے کے لئے مخالفین کی طرف سے کی جانے والی تدابیر ۶۳۱ اسلام دین کے پھیلانے کے لئے ہر گز جبر کی اجازت نہیں دیتا ۶۳۱ اسلام کی لڑائیاں دین پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کی جان بچانے کے لئے تھیں ۶۳۲ اسلام کو امن قائم کرنے کے لئے لڑائیاں کرنی پڑیں ۶۳۳ تلوار سے جہادکے غلط عقیدہ کے اسلام پر اثرات ۶۳۴ فرقوں کے باہم اختلافات ۲۲۳ اشتہار اشتہارکہ عربی رسالہ لکھنے کے لئے ہمارے مقابل آؤ ۴۴۰ لیکھرام پشاوری کی نسبت لکھا جانے والا اشتہار ۵۶۲تا۵۶۴ لیکھرام پشاوری کی پیشگوئی کی نسبت کئے گئے اعتراضات کے جوابات ۵۵۴تا۵۵۶ اللہ تعالیٰ جل جلالہ خدا کا ذاتی نام ۹۷ اللہ کی حمدوثنا ۳ اللہ تعالیٰ کا اولیاء کے ساتھ سلوک ۳،۴ اللہ تعالیٰ صالحین کی عقلوں کی خود پرورش فرماکر انہیں روحانی طریقوں کی ہدایت عطافرماتا ہے ۴۵ اللہ اپنے مرسلین کی خود حفاظت فرماتا ہے خواہ مکر کرنے والے کتنے ہی مکر کریں ۱۶ قیامت تک کے لئے شیطان سے بچنے کے لئے اللہ کا طریق سکھانا ۸۲ بات کرتے وقت اس قادر کا خیال کرلو جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے ۶۴۱ اللہ کے احمد اور انسان کے محمد ؐ بننے کی حقیقت کا بیان ۱۰۶،۱۰۷ اللہ کا نام جامد ہے اور اس کے معنی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ۱۱۵ اللہ تعالیٰ کا کمال درجہ کا محمد اور احمد ہونا اور اس کے قرائن کا ذکر ۱۳۰ اللہ کا نام جامد ہے اور اس کی کنہ سے کوئی واقف نہیں ۱۵۰ اللہ نے اسلام کے آغاز اور آخر میں دو احمد پیدا کیے ہیں اس کا سورۃ فاتحہ میں اشارہ ہے ۱۹۸ خدا کے مخالف ہمیشہ ذلت اور شکست اٹھاتے ہیں ۳۸۰ خدا تعالیٰ ارادہ کرے تو بڑے سے بڑے کج طبع کو قائل کرسکتا ہے ۳۸۵ خدا کا دیدار اعلیٰ درجہ کی لذت کا سرچشمہ ہے ۴۶۲ خدا کا کلام حدیث النفس یا شیطانی القاء نہیں ۴۶۳ خدا اپنی قدرتوں میں کمزور نہیں ۴۶۳ خدا کا اپنی قدرتوں کے دکھلانے کے لئے خارق عادت طریقے اختیار کرنا ۴۶۳ مسیح موعود ؑ کا خدا کے کلام کو اپنی روحانی والدہ قراردینا ۴۶۵ ہر ایک طالبِ حق اس زندہ مذہب کا طالب ہو جس میں زندہ خدا کے انوار نمایاں ہوں ۴۶۹ خدا کا قائل وہی ہے جس کی یقین کی آنکھیں کھل گئیں ۴۷۰ خدا۔خدا کے ذریعہ سے ہی پہنچانا جاتا ہے نہ کسی اور ذریعہ سے ۴۷۲ اناالموجود کی آواز سننے پر انسان سمجھتا ہے کہ خدا ہے ۴۷۳ خداتک پہنچنے کے لئے بجز خدا تعالیٰ کے کلام کے اور کوئی سبیل نہیں ۴۷۵ مصنوعات پر نظر کر کے یہ ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ان کا ایک صانع ہونا چاہئے ۴۹۰ خدا کی غرض کتابوں کے نازل کرنے سے افادۂ یقین ہے ۴۹۱ دنیا میں خدا تعالیٰ کے تین قسم کے کام ۵۱۷ خدا کا یقینی کلام اپنی طاقت اور شوکت اور دلکش خاصیت اور خوارق سے پہچانا جاتا ہے ۴۸۹ کلام الہٰی سے مراد ۴۹۲ مسلمانوں کا خدا ہندؤوں کے مصنوعی پر میشر پر غالب آگیا ۵۵۳ خدا کی عادت میں داخل ہے کہ روحانی امور کو ذہن نشین کرانے کے لئے اس کی جسمانی تصویر پیدا کردیتا ہے ۶۲۸،۶۲۹ عیسائیوں میں انسان کو خدا بنانے کی غرض ۶۳۹ ہر یک کامل لذت خدا میں ہے ۶۴۱ حق اور حکمت کی راہ پر چلو کہ اس سے خدا کو پاؤ گے ۶۴۸ خدا تعالیٰ کا سچا پرستارکون ہے ۶۶۴ خدا انسان کو پیدا کرکے اس سے الگ نہیں ہوا ۶۷۱ خدا تعالیٰ کا قرب پانے کا ذریعہ ۶۶۵ خدا کی سچی محبت گناہ اور مخالفت سے روکتی ہے ۴۸۸ بغیر خدا تعالیٰ کے سہارے کے کسی چیز کاقائم ہوناممکن نہیں ۶۷۲ خدا تعالیٰ کی ذات طاقت کا خزانہ ۶۷۳ روشنی حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے طاقت مانگنا ضروری ہے ۶۷۴ ذات باری تعالیٰ کو تمثیلی طورپر دل سے مشابہت ۶۷۴ خدا تعالیٰ کا نبیوں کی معرفت خود کو شناخت کروانا ۶۸۹ وہ خدا جو پہلے نبیوں پر ظاہر ہوا وہ اب موجود ہے ۶۸۹ کامل محبوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق ۶۹۴ مصنوعات پر نظر کر کے یہ ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ان کا ایک صانع ہونا چاہیئے ۴۹۰ صفاتِ باری تعالیٰ خدا تعالیٰ کی صفات درحقیقت اس کا حسن اور جمال ہے ۶۶۹ اللہ کی صفات کا دنیا میں کبھی محبوبیت اور کبھی محبیت کے رنگ میں ظہور اور اس میں حکمت ۹۸،۹۹ صفت رب العالمین ۱۲۹،۱۳۱تا۱۳۷ صفت رحمان ورحیم میں خداکے محبوبیت اور محبیت کے رنگ میں جلوہ کا ذکر ۹۹،۱۰۰ح رحمانیت کا کمال ۱۰۷ صفت رحمانیت کا فیضان کسی عمل کا نتیجہ اور کسی استحقاق کا پھل نہیں ۹۳ رحیمیت کاکمال ۱۰۷ جلال کے حوالے سے صفت رحمان کی حقیقت ۱۱۳ دوسری ساری صفات رحمان اور رحیم کی شاخیں ہیں ۱۱۶ رحیمیت وجوبی ہے اور صرف مومنوں کے لئے واجب رکھی گئی ہے ۱۱۷ کمالاتِ اخلاق الہٰیہ میں سے ہرکمال اس کے رحمان ورحیم کی صفات پر منحصر ہے ۱۲۳ صفت رحمان کے فیض عام کا ذکر ۱۴۰ صفت رحیم میں فیض خاص کا ذکر ۱۴۰ صفت مالک یوم الدین ۱۴۱تا۱۴۷ اللہ نے چار صفات اس لئے اپنے لیے اختیار کی ہیں تاکہ اس دنیا میں ان کا نمونہ دکھائے ۱۵۳ سورۃ فاتحہ کی چارصفات کا نبی کریم ؑ اور صحابہ کی ذات کے حوالے سے ذکر کہ کس طرح اُن پر اِن خدائی صفات کا جلوہ ہوا ۱۴۴،۱۴۵ آخرین میں خدا کی اِن چار صفات کا جلوہ ۱۴۷،۱۴۸ خدا تعالیٰ بباعث اپنی صفت مالکیت کے اختیار رکھتا ہے کہ دوسری کتابوں کی بعض عبارتیں اپنی جدیدوحی میں داخل کرے ۴۳۸ خدا کا موت،فنا، نقصان اور ذلت کو اپنے پر قبول کر کے عورت کے پیٹ سے پیداہونا قدیم قانون قدرت کے مخالف ہے ۶۴۰ خدا کا زندہ ہونا تمام برکات کا مدار ہے نہ کہ مرنا ۶۴۰ خدا تعالیٰ سے تعلق شدید کے لئے اس کے احسان اور حسن سے تمتّع ضروری ہے ۶۶۹