عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 722 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 722

۔پھر بھی اگر تو ظن پر قانع ہے تو تو عقلمندنہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے۔دل تو حجابوں کے دور کرنے کے لئے بیقرار رہتا ہے سوائے ایسے دل کے جو کتوں کی مانند ہو گیا ہے۔کیا خدا نے اَفَلَا تُبْصِرُوْن نہیں فرمایا۔اٹھ اور اپنے اندر پیاس کو تلاش کر۔ذلیل لوگوں کی طرح ہمت پست نہ رکھ۔جا اور خدا کو دیوانوں کی طرح ڈھونڈ۔جو اُس کا طالب ہے اُس نے اُسے پا لیا وہ منہ نورانی ہو گیا جس نے اُس سے سر نہ پھیرا۔خدا کی طرف سے اُس جوانمرد پر آفرین ہوجو اس دروازہ پر خاک کی طرح آپڑا۔اس پاک مہیمن کے وصل کی خاطر وہ گرا اور عاجزی سے اپنا سر خاک پر رکھ دیا۔وہ ہر وقت خدائے واحد کے ساتھ زمین اور آسمان پر قرار پاتا ہے۔اُس کا ذرّہ ذرّہ زمین سے بے تعلق ہو گیا اور اُس کا دل عرش بریں کی جانب اڑ گیا۔اُس کے چہرہ پر خدا کی تجلّی ہے اور اُس کا دل ذاتِ باری کا جلوہ گاہ ہے۔یہ سب حالت خدا کی مہربانی سے ہی آتی ہے جب کلامِ الٰہی کی وجہ سے بندہ کا یقین زیادہ ہو جاتا ہے۔تو ابھی میری بات کو نہیں سمجھتا۔میں تیرے دل میں کیوں کر گھس جاؤں؟ بتا کیا کروں۔افسوس کہ ہمارا دل درد کے مارے گداز ہو گیامگر ہمارے درد کو مخاطب نے نہ پہچانا۔اے یار کے چہرہ کے سورج جلدی باہر نکل کہ اندھیری رات کی وجہ سے ہمارا دل آزردہ ہو گیا ہے۔ہماری عمر بھی ختم ہونے کو آگئی۔اے دلدار میری گود میں آجا۔اے وہ شخص کہ جو خدا کا طالب ہے تو ایسا یقین تلاش کر جو تجھے سرشار کر دے۔وہ یقین ڈھونڈ جو تیرے لئے سیلاب بن جائے اور تیری ساری محبت خدا کے لئے ہی ہو جائے۔وہ یقین ڈھونڈ جو ایسی آگ جلائے جو کہ ہر ماسوا اللہ کو بھسم کر ڈالے صفحہ ۴۸۴۔یقین ہی کی بدولت زہد اور عرفان بھی حاصل ہوتا ہے یہ بات میں نے تجھ سے ظاہر اًبھی کہہ دی اور مخفی بھی۔بغیر یقین کے تیرا دل ُمردار کی طرح ہے سر تکبر سے بھرا ہوا اور دل میں مبتلا۔بغیر یقین کے تیرا نفس کتے کی طرح ہو جاتا ہے ہر فساد کے وقت اُس کی رگ حرکت میں آجاتی ہے