عصمتِ انبیاءؑ — Page 721
۔تجھے ہرگز خدا پر یقین نہیں اسی لئے بھیڑیوں کی طرح تجھے ُمردار ہی پسند آتا ہے۔وہ یقین جو گناہ سے بچاتا ہے اگر تو چاہے تو میں تجھ سے اس کی حقیقت بیان کر دوں۔وہ خدا کا قطعی اور یقینی کلام ہے جو شیطانِ لعین کے دخل سے پاک اور بالاتر ہو۔پس وہی کلام گناہ کا علاج ہے۔کوئی اور طریقہ محض مکّاری ہے۔کیا تو نے کبھی سنا کہ اگر ہلاک ہو جانے کا یقین ہو تو پھر بھی کوئی نڈر ہو کر جنگل میں جاتا ہو۔پس کیوں کر ممکن ہے کہ خدا پر یقین ہو کر پھر بھی کوئی دل گناہ میں منہمک رہتا ہو۔تو نے شکوک وشبہات کا نام یقین رکھ چھوڑا ہے اس لئے تو گناہوں کی وجہ سے بدنام ہے۔ذرا اپنی طرف دیکھ اور غور سے آنکھیں کھول۔تا کہ تجھے معلوم ہو کہ تو اندھا اور محجوب ہے اور یقین کی خوبی سے بالکل محروم۔تجھ میں ذرا بھی نور نہیں ہے اندھیری گھپ رات کو چاند سے کیا واسطہ۔یہ عجیب قسم کا خدا تیرے دل میں ہے کہ اُس سے قسم قسم کی تاریک روئیدگی پیدا ہو گئی ہے۔اندھیری رات ہے اور جنگل اور درندوں کا خوف۔اے نادان! تو کیوں کر خواب غفلت میں پڑا ہے۔اٹھ اور اپنے حال پر نظر ڈال۔راستے کے خطرہ کو دیکھ اور افسوس کر۔اٹھ اور اپنے نفس سے ہی دریافت کر لے کہ وہ معرفت کے کیسے کیسے مدارج مانگتا ہے۔آیا اُس کے نزدیک یقین ہی آب حیات ہے یا وہ شکوک وشبہات کے بھنور کو پسند کرتا ہے۔اگر تیرا دل یقین کے لئے واقعی بیقرار ہے تو پھر اس کریم اور مددگار خدا نے تجھ سے بخل کیوں کر رکھا ہے۔جو چیز خود اُس نے تیری فطرت میں ڈال دی ہے پھر اس ارادہ سے اُس نے گریز کیوں کیا۔اس بات سے ظاہر ہے کہ اس کریم ورحیم خدا نے انسانی فطرت کا ہر تقاضا پورا کر دیا ہے۔پھر انسان ہی اپنی ہمت کی کمی سے اُس کے عطا کردہ نورِ فطرت سے غافل ہو گیا ہے۔اگر انسان کی خواہش یقین کے لئے نہیں ہے تو کیا باعث ہے کہ وہ ہر گھڑی اسی کی تلاش میں رہتا ہے۔جو کچھ انسان کی فطرت میں مخفی ہے انسان اس سے کس طرح محروم رہ سکتا ہے۔جب ہر وقت فیضانِ الٰہی کا سمندر جاری ہے تا کہ خدا تجھے کامل یقین تک پہنچائے