عصمتِ انبیاءؑ — Page 703
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۹ عصمت انبياء عليهم السلام آپ لوگوں کو دکھلاتے ہیں کہ مسیح نے اقرار کیا ہے کہ میں نیک نہیں ہوں پس جبکہ خود مسیح ابن مریم کی عصمت کسی طور سے ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ انجیلوں سے بعض حرکات اس کی عصمت کے برخلاف ثابت ہوتی ہیں جیسا کہ شراب پینا ، انجیل کے ابدی احکام حرمت خنزیر وختنہ وغیرہ کا توڑنا، ناحق دوسرے کے مالوں کو نقصان پہنچانا۔ فقیہوں فریسیوں کو گالیاں دینا، بدکردار عورتوں کو جسم چھونے کا موقع دینا، حرام کا تیل سر پر ملوانا۔ شاگردوں کو غیر لوگوں کے کھیتوں سے خوشے توڑنے سے منع نہ کرنا۔ اب بتلاؤ کہ یہ تمام امور گناہ ہیں یا نہیں اگر شراب پینا اچھا (۲۰۹) کام تھا تو یوحنا نے شراب پینے سے کیوں نفرت کی دانیال نے کہا کہ شراب پینے والوں پر آسمان کے دروازے بند رہتے ہیں۔ ختنہ جو ابدی حکم تھا اس سے کیوں روک دیا۔ حالانکہ آج کل کی تحقیقات کے رو سے بھی وہ بہت سے امراض کو مفید ہے ایسا ہی سو ر ہمیشہ کے لئے حرام تھا اس کو کھانے کا کیوں فتویٰ دیا اور خود کہا کہ توریت منسوخ نہیں ہوئی۔ اور پھر آپ ہی اسے منسوخ کیا اور یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح ابن مریم کی عصمت انجیل کی رو سے ثابت کرنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کہ اس مسلول کی صحت ثابت کرنا جس کا مرض ذبول اور دستوں کی حالت تک پہنچ چکا ہے۔ کیا ضروری نہ تھا کہ پہلے حضرت مسیح کی عصمت ثابت کر لیتے پھر دوسروں پر نکتہ چینی کرتے قرآن میں استغفار کا لفظ دیکھ کر فی الفور یہ دعوی کر دینا کہ اس سے گنہ گار ہونا ثابت ہوتا ہے اور انجیل کے اس لفظ کو معضم کر جانا کہ میں نیک نہیں کیا یہ ایمانداری ہے۔ پھر ان سب باتوں کے بعد ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آخرت کا شفیع وہ ثابت ہوسکتا ہے جس نے دنیا میں شفاعت کا کوئی نمونہ دکھلایا ہو۔ سو اس معیار کو آگے رکھ کر جب ہم موسیٰ پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی شفیع ثابت ہوتا ہے کیونکہ بارہا اس نے اترتا ہوا عذاب دعا سے ٹال دیا۔ اس کی تو ریت گواہ ہے اسی طرح جب ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کا شفیع ہونا اجلی بدیهیات معلوم ہوتا ہے کیونکہ آپ کی شفاعت کا ہی اثر تھا کہ آپ