عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 702 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 702

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۸ عصمت انبياء عليهم السلام میں بھی خدائی کا دعوی کروں یا خدا کا بیٹا کہلاؤں پس اسی طرح یقینا سمجھو کہ مسیح ابن مریم بھی خدا کا بیٹا نہیں نہ خدا ہے میں مسیح محمد مکی ہوں اور وہ مسیح موسوی تھا۔ خدا کی تقدیر نے یہ مقدر کیا تھا کہ اسرائیلی سلسلہ کے آخر میں جس کی شریعت کی ابتدا موسیٰ سے ہے ایک مسیح آوے اور اس کے مقابل پر یہ بھی مقدر کیا تھا کہ اسماعیلی سلسلہ کے آخر میں بھی جس کی شریعت کی ابتدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ایک مسیح آوے سو ایسا ہی ہوا۔ موسیٰ خدا کا بندہ اسرائیل کے لئے شریعت لایا خدا کو معلوم تھا کہ موسیٰ سے قریباً چودہویں صدی پر بنی اسرائیل شریعت کے حقائق اور رموز کو چھوڑ دیں گے اور نیز اخلاقی حالت ان کی بہت ابتر ہو جائے گی سو اسی غرض سے خدا نے حضرت موسیٰ سے چودہویں صدی پر مسیح ابن مریم کو پیدا کیا اس ملک میں جس میں بنی اسرائیل کی سلطنت بھی باقی نہیں رہی تھی۔ سو جب تو ریت کتاب استثنا کے وعدہ کے مطابق دنیا میں مثیل موسیٰ آیا یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا نے آپ کے بعد بھی جب چودہویں صدی پہنچی تو پہلے مسیح کی مانند ایک مسیح پیدا کیا اور وہ میں ہوں اور جس طرح مثیل موسیٰ بہت سی باتوں میں موسیٰ سے بڑھ کر ہے ایسا ہی مثیل عیسیٰ بھی بہت سی باتوں میں عیسیٰ سے بڑھ کر ہے اور یہ جزئی فضیلت ہے جس کو خدا چاہتا ہے دیتا ہے۔ عصمت کیوں کر ثابت ہوسکتی ہے اب میں دیکھتا ہوں کہ جس مسئلہ عصمت اور شفاعت کو عیسائیوں کی طرف سے بار بار پیش کیا جاتا ہے وہ ایک سرا سر دھوکا ہے جو عیسائیوں کو لگا ہوا ہے اگر معصوم کے یہ معنے ہیں کہ کوئی دشمن کسی کی عملی زندگی کی نسبت کوئی نکتہ چینی نہ کرے تو آؤ ہم یہود کی کتابیں دکھلاتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح اور ان کی ماں کے چال چلن پر بہت نکتہ چینی کی ہے اور اگر معصوم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ کوئی شخص اپنے منہ سے یہ کہے کہ میں نیک ہوں تو آؤ ہم انجیل سے