عصمتِ انبیاءؑ — Page 680
روحانی خزائن جلد ۱۸ عصمت انبياء عليهم السلام بطور استعارہ اس کا نام ذنب رکھا گیا اور یہ محاورہ شائع متعارف ہے کہ جو اعراض بعض امراض کو پیدا کرتے ہیں کبھی انہیں اعراض کا نام امراض رکھ دیتے ہیں پس کمزوری فطرت بھی ایک مرض ہے جس کا علاج استغفار ہے۔ غرض خدا کی کتاب نے بشریت کی کمزوری کو ذنب کے محل پر استعمال کیا ہے اور خود گواہی دی ہے کہ انسان میں فطرتی کمزوری ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيففًا یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے یہی کمزوری ہے کہ اگر الہی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہو تو انواع اقسام کے گناہوں کا موجب ہو جاتی ہے پس استغفار کی حقیقت یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر دم اور ہر آن خدا سے مدد مانگی جائے اور اس سے درخواست کی جائے کہ بشریت کی کمزوری جو بشریت کا ایک ذلب ہے جو اس کے ساتھ لگا ہوا ہے ظاہر نہ ہو سو مداومت استغفار دلیل اس بات پر ہے کہ اس ذنب پر فتح پائی اور وہ ظہور میں نہ آسکا اور خدا کا نو را ترا اور اس کو دبا لیا۔ اس جگہ یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ استغفار کا لفظ غفر سے نکلا ہے اور اس کے اصل معنی دہانے اور ڈھانکنے کے ہیں یعنی یہ درخواست کرنا کہ بشریت کی کمزوری ظاہر ہو کر کوئی نقصان نہ پہنچا وے اور وہ ڈھکی رہے کیونکہ بشر چونکہ خدا نہیں ہے اور نہ خدا سے مستغنی ہے اس لئے وہ اس بچہ کی طرح ہے جو ہر قدم میں ماں کا محتاج ہوتا ۱۹۲ ہے تا وہ اس کو گرنے سے بچاوے اور ٹھوکر سے محفوظ رکھے ایسا ہی یہ بھی ہر قدم میں خدا کا محتاج ہوتا ہے تا وہ اس کو ٹھو کر اور لغزش سے بچاوےسواس علاج کے لئے استغفار ہے۔ اور کبھی یہ لفظ توسع کے طور پر ان لوگوں پر بھی اطلاق پاتا ہے جو اول کسی گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور اس جگہ استغفار کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جو گناہ صادر ہو چکا ہے اس کی سزا سے خدا بچاوے لیکن یہ دوسرے معنی خدا کے مقرب لوگوں کے حق میں درست اور روا نہیں ہیں وجہ یہ کہ خدا نے تو پہلے سے ان پر ظاہر کیا ہوا ہوتا ہے کہ وہ کوئی سزا نہیں پائیں گے النساء : ۲۹