عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 662 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 662

روحانی خزائن جلد ۱۸ عصمت انبياء عليهم السلام دیا۔ سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطر تا خدا سے تعلق پیدا ہو جائے ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہوگا تو وہ ضرور اس روح میں سے 1 آدم میں اپنی روح پھونک دی اس حالت پر نہ کسی تکلف سے اور نہ ایسے امر سے جو شریعت کے احکام کے رنگ میں ہوتا ہے فرشتوں کو یہ حکم ہوتا ہے جو اس کے آگے سجدہ میں گریں یعنی کامل طور پر اس کی اطاعت کر یں گویا وہ اسکو سجدہ کر رہے ہیں یہ حکم فرشتوں کی فطرت کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے کوئی مستحدث امر نہیں ہوتا۔ یعنی ایسے شخص کے مقابل پر جس کا وجود خدا کی صورت پر آ جاتا ہے خود فرشتے طبعا محسوس کر لیتے ہیں کہ اب اس کی خدمت کیلئے ہمیں گرنا چاہئے اور ایسے قصے در حقیقت قصے نہیں ہیں۔ بلکہ قرآن شریف میں عادت البہی اسی طرح واقع ہے کہ ان قصوں کے نیچے کوئی علمی حقیقت ہوتی ہے پس اس جگہ یہی علمی حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس قصے کے پیرایا میں ظاہر کرنا چاہا ہے کہ کامل انسان کی نشانی کیا ہے؟! پس فرمایا کہ انسان کامل کی نشانی یہ ہے کہ انسانی خلقت کے کسی حصہ میں وہ کم نصیب نہ ہو اور اس کے روحانی جسمانی اعضا نے بشری بناوٹ سے پورا حصہ لیا ہو اور کمال اعتدال پر اس کی فطرت واقع ہو (۲) اور دوسری یہ نشانی ہے کہ الہی روح نے اس کے اندر دخول کیا ہو (۳) اور تیسری یہ نشانی ہے کہ فرشتے اس کو سجدہ کریں یعنی تمام فرشتے جو زمین اور آسمان کے کام میں لگے ہوئے ہیں اس کے خادم ہوں اور اُس کی منشاء کے موافق کام کریں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کا تمام لشکر ملائکہ بھی اس شخص کے ساتھ ہو جاتا ہے اور اس کی طرف جھک جاتا ہے تب ہر ایک میدان میں اور ہر ایک مشکل کے وقت میں فرشتے اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کیلئے ہر دم کمر بستہ رہتے ہیں گویا وہ ہر وقت اس کے سامنے سجدہ میں ہیں کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ ہے لیکن ان باتوں کو زمینی خیال کے لوگ سمجھ نہیں سکتے کیونکہ آسمانی روح سے ان کو حصہ نہیں دیا گیا۔ منہ