عصمتِ انبیاءؑ — Page 661
روحانی خزائن جلد ۱۸ عصمت انبياء عليهم السلام اب شفاعت کی فلاسفی یوں سمجھنی چاہئے کہ شفع لغت میں جُفت کو کہتے ہیں پس شفاعت کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ضروری امر جو شفیع کی صفات میں سے ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کو دو طرفہ اتحاد حاصل ہو یعنی ایک طرف اس کے نفس کو خدا تعالٰی سے تعلق شدید ہو ایسا کہ گویا وہ کمال اتحاد کے سبب حضرت احدیت کے لئے بطور جفت اور پیوند کے ہو اور دوسری طرف اس کو مخلوق سے بھی شدید تعلق ہو گویا وہ ان کے اعضا کی ایک جز ہو۔ پس شفاعت کا اثر مترتب ہونے کے لئے در حقیقت یہی دو جز ہیں جن پر ترتب اثر (۱۷۷) موقوف ہے۔ یہی راز ہے جو حکمت الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دیئے یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ یعنی جب میں آدم کو ٹھیک ٹھیک بنالوں اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو اسی وقت تم سجدہ میں گر جاؤ اس مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس (۱۷۸) کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر ہے اس آیت میں ایک عمیق راز کی طرف اشارہ ہے جو انتہائی درجہ کے کمال کا ایک نشان ہے اور وہ یہ کہ انسان ابتدا میں صرف صورت انسان کی ہوتی ہے مگر اندر سے وہ بے جان ہوتا ہے اور کوئی روحانیت اس میں نہیں ہوتی اور اس صورت میں فرشتے اس کی خدمت نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک پوست بے مغز ہے لیکن بعد اس کے رفتہ رفتہ سعید انسان پر یہ زمانہ آ جاتا ہے کہ وہ خدا سے بہت ہی قریب جا رہتا ہے تب جب ٹھیک ٹھیک ذوالجلال کی روشنی کے مقابل پر اس کا نفس جا پڑتا ہے اور کوئی حجاب درمیان نہیں ہوتا کہ اس روشنی کو روک دے تو بلا توقف الوہیت کی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں خدا کی روح کہہ سکتے ہیں اس انسان کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور وہی ایک خاص حالت ہے جس کی نسبت کلام الہی میں کہا گیا کہ خدا نے الحجر : ٣٠