اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 457

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۵۱ اسلامی اصول کی فلاسفی سوجنہوں نے تلوار اٹھائی تھی انہیں کے ساتھ تلوار کا مقابلہ ہوا۔ غرض قتل کرنے والوں کا فتنہ فرو کرنے کے لئے بطور مدافعت شر کے وہ لڑائیاں تھیں اور اس وقت ہوئیں جبکہ ظالم طبع لوگ اہل حق کو نابود کرنا چاہتے تھے ۔ اس حالت میں اگر اسلام اس حفاظت خود اختیاری کو عمل میں نہ لاتا تو ہزاروں بچے اور عورتیں بے گناہ قتل ہو کر آخر اسلام نابود ہو جاتا۔ یادر ہے کہ ہمارے مخالفین کی یہ بڑی زبردستی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ الہامی ہدایت ایسی ہونی چاہئے جس کے کسی مقام اور کسی محل میں دشمنوں کے مقابلہ کی تعلیم نہ ہوا اور ہمیشہ حلم اور نرمی کے پیرا یہ میں اپنی محبت اور رحمت کو ظاہر کرے۔ ایسے لوگ اپنی دانست میں خدائے عزوجل کی بڑی تعظیم کر رہے ہیں کہ جو اس کی تمام صفات کا ملہ کو صرف نرمی اور ملائمت پر ہی ختم کرتے ہیں لیکن اس معاملہ میں فکر اور غور کرنے والوں پر بآسانی کھل سکتا ہے کہ یہ لوگ بڑی موٹی اور فاش غلطی میں مبتلا ہیں ۔ خدا کے قانون قدرت پر نظر ڈالنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے لئے وہ رحمت محض تو ضرور ہے مگر وہ رحمت ہمیشہ اور ہر حال میں نرمی اور ملائمت کے رنگ میں ظہور پذیر نہیں ہوتی بلکہ وہ سراسر رحمت کے تقاضا سے طبیب حاذق کی طرح کبھی شربت شیریں ہمیں پلاتا ہے اور کبھی دوائی تلخ دیتا ہے۔ اس کی رحمت نوع انسان پر اس طرح وارد ہوتی ہے جیسے ہم میں سے ایک شخص اپنے تمام وجود پر رحمت رکھتا ہے۔ اس بات میں کسی کو شک نہیں ہوسکتا کہ ہر ایک فرد ہم میں سے اپنے سارے وجود سے پیار رکھتا ہے اور اگر کوئی ہمارے ایک بال کو اکھاڑنا چاہے تو ہم اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں لیکن باوصف اس کے کہ ہماری محبت جو ہم اپنے وجود سے رکھتے ہیں ہمارے تمام وجود میں بٹی ہوئی ہے اور تمام اعضاء ہمارے لئے پیارے ہیں۔ ہم کسی کا نقصان نہیں چاہتے مگر پھر بھی یہ بات ببداہت ثابت ہے کہ ہم اپنے تمام اعضاء سے ایک ہی درجہ کی اور یکساں محبت نہیں رکھتے بلکہ اعضاء رئیسہ و شریفہ کی محبت جن