اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 456

۸۹ روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۵۰ اسلامی اصول کی فلاسفی کا زمانہ نہ پاوے۔ اس کے اخلاق میں سے کچھ بھی ثابت نہ ہوگا اور اگر کسی میدان جنگ میں حاضر نہیں ہوا تو یہ بھی ثابت نہ ہوگا کہ وہ دل کا بہادر تھا یا بز دل۔ اس کے اخلاق کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم نہیں جانتے۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ اگر وہ اپنے دشمنوں پر قدرت پا تا تو ان سے کیا سلوک بجالا تا اور اگر وہ دولت مند ہو جاتا تو اس دولت کو جمع کرتا یا لوگوں کو دیتا اور اگر وہ کسی میدان جنگ میں آتا تو دم دبا کر بھاگ جاتا یا بہادروں کی طرح ہاتھ دکھاتا مگر خدا کی عنایت اور فضل نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان اخلاق کے ظاہر کرنے کا موقع دیا۔ چنانچہ سخاوت اور شجاعت اور حلم اور عفو اور عدل اپنے اپنے موقع پر ایسے کمال سے ظہور میں آئے کہ صفحہ دنیا میں اس کی نظیر ڈھونڈ نا لا حاصل ہے۔ اپنے دونوں زمانوں میں ضعف اور قدرت اور ناداری اور ثروت میں تمام جہان کو دکھلا دیا کہ وہ ذات پاک کیسی اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی جامع تھی اور کوئی انسانی خلق اخلاق فاضلہ میں سے ایسا نہیں ہے جو اس کے ظاہر ہونے کے لئے آپ کو خدا تعالیٰ نے ایک موقع نہ دیا۔ شجاعت، سخاوت، استقلال، عفو، علم وغیرہ وغیرہ تمام اخلاق فاضله ایسے طور پر ثابت ہو گئے کہ دنیا میں اس کی نظیر کا تلاش کرنا طلب محال ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ جنہوں نے ظلم کو انتہا تک پہنچا دیا اور اسلام کو نابود کرنا چاہا خدا نے ان کو بھی بے سزا نہیں چھوڑا کیونکہ ان کو بے سزا چھوڑ نا گویا راست بازوں کو ان کے پیروں کے نیچے ہلاک کرنا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کی غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں کی ہرگز یہ غرض نہ تھی کہ خواہ مخواہ لوگوں کو قتل کیا جائے۔ وہ اپنے باپ دادا کے ملک سے نکالے گئے تھے اور بہت سے مسلمان مرد اور عورتیں بے گناہ شہید کئے گئے تھے اور ابھی ظالم ظلم سے باز نہیں آتے تھے اور اسلام کی تعلیم کو روکتے تھے لہذا خدا کے قانون حفاظت نے یہ چاہا کہ مظلوموں کو بالکل نابود ہونے سے بچالے۔