اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 447
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴۱ اسلامی اصول کی فلاسفی نے سوال کیا۔ خدا نے جواب دیا۔ پھر اسی وقت عین بیداری میں اس نے کوئی اور عرض کی اور خدا نے اس کا بھی جواب دیا۔ پھر گزارش عاجزانہ کی ، خدا نے اس کا بھی جواب عطا فرمایا۔ایسا ہی دس مرتبہ تک خدا میں اور اس میں باتیں ہوتی رہیں اور خدا نے بارہا ان مکالمات میں اس کی دعائیں منظور کی ہوں۔ عمدہ عمدہ معارف پر اس کو اطلاع دی ہو۔ آنے والے واقعات کی اس کو خبر دی ہو اور اپنے برہنہ مکالمہ سے بار بار کے سوال وجواب میں اس کو مشرف کیا ہو تو ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہیے اور سب سے زیادہ خدا کی راہ میں فدا ہونا چاہیے کیونکہ خدا نے محض اپنے کرم سے اپنے تمام بندوں میں سے اسے چن لیا اور ان صدیقوں کا اس کو وارث بنادیا جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں ۔ یہ نعمت نہایت ہی نا در الوقوع اور خوش قسمتی کی بات ہے جس کو ملی ۔ اس کے بعد جو کچھ ہے وہ بیچ ہے۔ اسلام کی خصوصیت اس مرتبہ اور اس مقام کے لوگ اسلام میں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور ایک اسلام ہی ہے جس میں خدا بندہ سے قریب ہو کر اس سے باتیں کرتا اور اس کے اندر بولتا ہے ۔ وہ اس کے دل میں اپنا تخت بناتا اور اس کے اندر سے اسے آسمان کی طرف کھینچتا ہے اور اس کو وہ سب نعمتیں عطا فرماتا ہے جو پہلوں کو دی گئیں ۔ افسوس اندھی دنیا نہیں جانتی کہ انسان نزدیک ہوتا ہوتا کہاں تک پہنچ جاتا ہے ۔ وہ آپ تو قدم نہیں اٹھاتے اور جو قدم اٹھائے یا تو اس کو کا فرٹھہرایا جاتا ہے اور یا اس کو معبود ٹھہرا کر خدا کی جگہ دی جاتی ہے۔ یہ دونوں ظلم ہیں۔ ایک افراط سے ایک تفریط سے پیدا ہوا مگر عقلمند کو چاہیے کہ وہ کم ہمت نہ ہو اور اس مقام اور اس مرتبہ کا انکاری نہ رہے اور صاحب اس مرتبہ کی کسر شان نہ کرے اور نہ اس کی پوجا شروع کر دے۔ اس مرتبہ پر خدا تعالیٰ وہ تعلقات اس بندہ سے ظاہر کرتا ہے کہ گویا اپنی الوہیت کی چادر اس پر ڈال دیتا ہے اور ایسا شخص خدا کے دیکھنے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہی بھید ہے جو ہمارے