اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 446
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۴۰ اسلامی اصول کی فلاسفی جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہم کلام ہوتا ہے۔ اسی طرح رب اور اس کے بندہ میں ہم کلامی واقع ہو اور جب کسی امر میں سوال کرے تو اس کے جواب میں ایک کلام لذیذ فصیح خدا تعالیٰ کی طرف سے سنے۔ جس میں اپنے نفس اور فکر اور غور کا کچھ بھی دخل نہ ہو اور وہ مکالمہ اور مخاطبہ اس کے لئے موہبت ہو جائے تو وہ خدا کا کلام ہے اور ایسا بندہ خدا کی جناب میں عزیز ہے مگر یہ درجہ کہ الہام بطور موہبت ہو اور زندہ اور پاک الہام کا سلسلہ ایسے بندہ سے خدا کو حاصل ہو اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ ہو۔ یہ کسی کو نہیں ملتا بجز ان لوگوں کے جو ایمان اور اخلاص اور اعمال صالحہ میں ترقی کریں اور نیز اس چیز میں جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے ۔ سچا اور پاک الہام الوہیت کے بڑے بڑے کرشمے دکھلاتا ہے۔ بارہا ایک نہایت چمکدار نور پیدا ہوتا ہے اور ساتھ اس کے پر شوکت اور ایک چمکدار الہام آتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ ملہم اس ذات سے باتیں کرتا ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔ دنیا میں خدا کا دیدار یہی ہے کہ خدا سے باتیں کرے مگر اس ہمارے بیان میں انسان کی وہ حالت داخل نہیں ہے جو کسی کی زبان پر بے ٹھکا نہ کوئی لفظ یا فقرہ یا شعر جاری ہو اور ساتھ اس کے کوئی مکالمہ اور مخاطبہ نہ ہو بلکہ ایسا شخص خدا کے امتحان میں گرفتار ہے کیونکہ خدا اس طریق سے بھی سست اور غافل بندوں کو آزماتا ہے کہ کبھی کوئی فقرہ یا عبارت کسی کے دل پر با زبان پر جاری کی جاتی ہے اور وہ شخص اندھے کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہیں جانتا کہ وہ عبارت کہاں سے آئی ۔ خدا سے یا شیطان سے۔ سو ایسے فقرات سے استغفار لازم ہے لیکن اگر ایک صالح اور نیک بندہ کو بے حجاب مکالمہ الہی شروع ہو جائے اور مخاطبہ اور مکالمہ کے طور پر ایک کلام روشن ، لذیذ ، پر معنی ، پر حکمت پوری شوکت کے ساتھ اس کو سنائی دے اور کم سے کم بارہا اس کو ایسا (۸۳) اتفاق ہوا ہو کہ خدا میں اور اس میں تین بیداری میں دس مرتبہ سوال و جواب ہوا ہو ۔ اس اصل مسودہ میں ” خدا سے بندہ کو حاصل ہو “ کے الفاظ مرقوم ہیں جو درست معلوم ہوتے ہیں ۔ ( ناشر )