اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 443
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۳۷ اسلامی اصول کی فلاسفی اللہ جل شانہ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے خدا ہمیں وہ استقامت کی راہ بتلا جو راہ ان لوگوں کی ہے جن پر تیرا انعام ہوا ہے۔ اس جگہ انعام سے مراد الہام اور کشف وغیرہ آسمانی علوم ہیں جو انسان کو براہ راست ملتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ : یعنی جو لوگ خدا پر ایمان لاکر پوری پوری استقامت اختیار کرتے ہیں۔ ان پر خدا تعالیٰ کے فرشتے اترتے ہیں اور یہ الہام ان کو کرتے ہیں کہ تم کچھ خوف اور غم نہ کرو۔ تمہارے لئے وہ بہشت ہے جس کے بارے میں تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ سو اس آیت میں بھی صاف لفظوں میں فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نیک بندے غم اور خوف کے وقت خدا سے الہام پاتے ہیں اور فرشتے اتر کر ان کی تسلی کرتے ہیں اور پھر ایک اور آیت ۸۱ میں فرمایا ہے۔ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ " یعنی خدا کے دوستوں کو الہام اور خدا کے مکالمہ کے ذریعہ سے اس دنیا میں خوشخبری ملتی ہے اور آئندہ زندگی میں بھی ملے گی۔ الہام سے کیا مراد ہے؟ لیکن اس جگہ یادر ہے کہ الہام کے لفظ سے اس جگہ یہ مراد نہیں ہے کہ سوچ اور الفاتحة : ٦، حم السجدة : ٣١ ۳ یونس: ۶۵