اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 442
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۳۶ اسلامی اصول کی فلاسفی جس پر کسی نوع کا یقین کیا گیا ہے کوئی درمیانی واسطہ نہ ہو مثلاً جب ہم قوت شامہ کے ذریعہ سے ایک خوشبو یا بد بو کو معلوم کرتے ہیں اور یا ہم قوت ذائقہ کے ذریعہ سے شیریں یا نمکین پر اطلاع پاتے ہیں یا قوت حاشہ کے ذریعہ سے گرم یا سرد کو معلوم کرتے ہیں تو یہ تمام معلومات ہمارے عین الیقین کی قسم میں داخل ہیں مگر عالم ثانی کے بارے میں ہمارا علم الہیات تب عین الیقین کی حد تک پہنچتا ہے کہ جب خود بلا واسطہ ہم الہام پاویں خدا کی آواز کو اپنے کانوں سے سنیں اور خدا کے صاف اور صحیح کشفوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ ہم بے شک کامل معرفت کے حاصل کرنے کے لئے بلا واسطہ الہام کے محتاج ہیں اور اس کامل معرفت کی ہم اپنے دل میں بھوک اور پیاس بھی پاتے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے پہلے سے اس معرفت کا سامان میسر نہیں کیا تو یہ پیاس اور بھوک ہمیں کیوں لگا دی ہے۔ کیا ہم اس زندگی میں جو ہماری آخرت کے ذخیرہ کے لئے یہی ایک پیمانہ ہے اس بات پر راضی ہو سکتے ہیں کہ ہم اس بچے اور کامل اور قادر اور زندہ خدا پر صرف قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ایمان لاویں یا محض عقلی معرفت پر کفایت کریں۔ جواب تک ناقص اور نا تمام معرفت ہے۔ کیا خدا کے بچے عاشقوں اور حقیقی دلدادوں کا دل نہیں چاہتا کہ اس محبوب کے کلام سے لذت حاصل کریں؟ کیا جنہوں نے خدا کے لئے تمام دنیا کو برباد کیا ، دل کو دیا، جان کو دیا، وہ اس بات پر راضی ہو سکتے ہیں کہ صرف ایک دھندلی سی روشنی میں کھڑے رہ کر مرتے رہیں اور اس آفتاب صداقت کا منہ نہ دیکھیں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اُس زندہ خدا کا انا الموجود کہنا وہ معرفت کا مرتبہ عطا کرتا ہے کہ اگر دنیا کے تمام فلاسفروں کی خود تراشیدہ کتابیں ایک طرف رکھیں اور ایک طرف انا الموجود خدا کا کہنا تو اس کے مقابل وہ تمام دفتر بیچ ہیں جو فلاسفر کہلا کر اندھے رہے۔ وہ ہمیں کیا سکھائیں گے ۔ غرض اگر خدا تعالیٰ نے حق کے طالبوں کو کامل معرفت دینے کا ارادہ فرمایا ہے تو ضرور اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا طریق کھلا رکھا ہے۔ اس بارے میں