اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 427
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۲۱ اسلامی اصول کی فلاسفی اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔ جانا چاہیے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نورا تارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔ جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رب کریم سے خواہ نخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے بلکہ سچا محب بلا کے اترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے اور ایسے وقت میں جان کو نا چیز سمجھ کر اور جان کی محبت کو الوداع کہہ کر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بکلی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے۔ اسی کے حق میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِكْ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمت خاص کے مور د ہیں۔ غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔ ساتواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے راستبازوں کی صحبت اور ان کے کامل نمونوں کو دیکھنا ہے۔ پس جاننا چاہیے کہ انبیاء کی ضرورتوں میں سے ایک یہ بھی ضرورت ہے کہ انسان طبعاً کامل نمونہ کا محتاج ہے اور کامل نمونہ شوق کو زیادہ کرتا ہے اور ہمت کو بڑھاتا ہے اور جو نمونہ کا پیرو نہیں وہ سست ہو جاتا ہے اور بہک جاتا ہے البقرة: ۲۰۸