اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 426
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۲۰ اسلامی اصول کی فلاسفی کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ یہ بیچ بات ہے کہ استقامت فوق الکرامت ہے۔ کمال استقامت یہ ہے کہ چاروں طرف بلاؤں کو محیط دیکھیں اور خدا کی راہ میں جان اور عزت اور آبرو کو معرض خطر میں پاویں اور کوئی تسلی دینے والی بات موجود نہ ہو یہاں تک کہ خدا تعالیٰ بھی امتحان کے طور پر تسلی دینے والے کشف یا خواب یا الہام کو بند کر دے اور ہولناک خوفوں میں چھوڑ دے۔ اس وقت نامردی نہ دکھلا وہیں اور بزدلوں کی طرح پیچھے نہ نہیں۔ اور وفاداری کی صفت میں کوئی خلل پیدا نہ کریں۔ صدق اور ثبات میں کوئی رخنہ ے نہ ڈالیں۔ ذلت پر خوش ہو جائیں۔ موت پر راضی ہو جائیں اور ثابت قدمی کے لئے کسی دوست کا انتظار نہ کریں کہ وہ سہارا دے۔ نہ اس وقت خدا کی بشارتوں کے طالب ہوں کہ وقت نازک ہے اور باوجود سراسر بے کس اور کمزور ہونے کے اور کسی تسلی کے نہ پانے کے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور ہر چہ بادا باد کہ کر گردن کو آگے رکھ دیں اور قضاء وقدر کے آگے دم نہ ماریں اور ہرگز بے قراری اور جزع فزع نہ دکھلا وہیں جب تک کہ آزمائش کا حق پورا ہو جائے۔ یہی استقامت ہے جس سے خدا ملتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی رسولوں اور نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی خاک سے اب تک خوشبو آ رہی ہے۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس دعا میں اشارہ فرماتا ہے۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا! ہمیں استقامت کی راہ دکھلا ۔ وہی راہ جس پر تیرا انعام واکرام مترتب ہوتا ہے اور تو راضی ہو جاتا ہے۔ اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ فرمایا۔ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ! اے خدا! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آ جائے۔ الفاتحة : 24 الاعراف: ۱۲۷