اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 402

۳۹۶ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ طرح اس مرتبہ کے آدمی کے تمام تعلقات سفلی کالعدم ہو جاتے ہیں۔ اس کا اپنے خدا سے ایک (۵۷) گہرا تعلق ہو جاتا ہے اور وہ مخلوق سے دور چلا جاتا اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات سے شرف پاتا ہے۔ اس مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے اب بھی دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے کھلے ہوئے تھے اور اب بھی خدا کا فضل یہ نعمت ڈھونڈنے والوں کو دیتا ہے جیسا کہ پہلے دیتا تھا مگر یہ راہ محض زبان کی فضولیوں کے ساتھ حاصل نہیں ہوتی اور فقط بے حقیقت باتوں اور لافوں سے یہ دروازہ نہیں کھلتا۔ چاہنے والے بہت ہیں مگر پانے والے کم ۔ اس کا کیا سبب ہے۔ یہی کہ یہ مرتبہ کچی سرگرمی، بچی جانفشانی پر موقوف ہے۔ باتیں قیامت تک کیا کرو۔ کیا ہوسکتا ہے۔ صدق سے اس آگ پر قدم رکھنا جس کے خوف سے اور لوگ بھاگتے ہیں۔ اس راہ کی پہلی شرط ہے۔ اگر عملی سرگرمی نہیں تو لاف زنی بیچ ہے کہیں وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ! یعنی اگر میرے بندے میری نسبت سوال کریں کہ وہ کہاں ہے؟ تو ان کو کہہ کہ وہ تم سے بہت ہی قریب ہے۔ میں دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں۔ پس چاہیے کہ وہ دعاؤں سے میرا وصل ڈھونڈیں اور مجھ پر ایمان لاویں تا کامیاب ہو دیں۔ دوسرا سوال موت کے بعد انسان کی کیا حالت ہوتی ہے؟ سواس سوال کے جواب میں یہ گذارش ہے کہ موت کے بعد جو کچھ انسان کی حالت ہوتی ہے درحقیقت وہ کوئی نئی حالت نہیں ہوتی بلکہ وہی دنیا کی زندگی کی حالتیں زیادہ صفائی سے کھل جاتی ہیں۔ جو کچھ انسان کے عقائد اور اعمال کی کیفیت صالحہ یا غیر صالحہ ہوتی ہے وہ اس اصل مسودہ میں اس بارے میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے“ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں۔ ( ناشر ) 1 البقرة : ۱۸۷