اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 401

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹۵ اسلامی اصول کی فلاسفی اور زبان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ بولتا ہے اور ہاتھ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ حملہ کرتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور پیر ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ چلتا ہے۔اسی درجہ کی طرف اشارہ ہے جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ! یہ اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے اور ایسا ہی فرماتا ہے۔ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَى ! یعنی جو تو نے چلایا تو نے نہیں بلکہ خدا نے چلایا۔ غرض اس درجہ پر خدا کے ساتھ کمال اتحاد ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی پاک مرضی روح کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہے اور اخلاقی طاقتیں جو کمزور تھیں اس درجہ میں محکم پہاڑوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ عقل اور فراست نہایت لطافت پر آجاتی ہے۔ یہ معنے اس آیت کے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِّنْهُ ٣ اس مرتبہ میں محبت اور عشق کی نہریں ایسے طور سے جوش مارتی ہیں جو خدا کے لئے مرنا اور خدا کے لئے ہزاروں دکھ اٹھانا اور بے آبرو ہونا ایسا آسان ہو جاتا ہے کہ گویا ایک ہلکا سا تنکا توڑنا ہے۔ خدا کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ کون کھینچ رہا ہے۔ ایک غیبی ہاتھ اس کو اٹھائے پھرتا ہے اور خدا کی مرضیوں کو پورا کرنا اس کی زندگی کا اصل الاصول ٹھہر جاتا ہے۔ اس مرتبہ میں خدا بہت ہی قریب دکھائی دیتا ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے۔ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ! کہ ہم اس سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ تر نزدیک ہیں۔ ایسی حالت میں اس مرتبہ کا آدمی ایسا ہوتا ہے کہ جس طرح پھل پختہ ہو کر خود بخود درخت پر سے گر جاتا ہے۔اسی الفتح: 1) الانفال: ۱۸ المجادلة :٢٣