اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 395

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۸۹ اسلامی اصول کی فلاسفہ اپنی طرف سے ایک فعل صادر کرتا ہے مثلاً انسان جس وقت اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازوں کو بند کر دے تو انسان کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہوگا کہ وہ اس کو ٹھڑی میں اندھیرا پیدا کر دے گا کیونکہ جو امور خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ہمارے کاموں کے لئے بطور ایک نتیجہ لازمی کے مقدر ہو چکے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں۔ وجہ یہ کہ وہی علت العلل ہے۔ ایسا ہی اگر مثلاً کوئی شخص زہر قاتل کھالے تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل صادر ہوگا کہ اسے ہلاک کر دے گا۔ ایسا ہی اگر کوئی ایسا بے جا فعل کرے جو کسی متعدی بیماری کا موجب ہو تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہوگا کہ وہ متعدی بیماری اس کو پکڑلے گی ۔ پس جس طرح ہماری دنیوی زندگی میں صریح نظر آتا ہے کہ ہمارے ہر ایک فعل کے لئے ایک ضروری نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدا تعالی کا فعل ہے۔ ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ ان دو مثالوں میں صاف فرماتا ہے۔ الَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ، فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ ! یعنی جو لوگ اس فعل کو بجالائے کہ انہوں نے خدا تعالی کی جستجو میں پوری پوری کوشش کی تو اس فعل کے لئے لازمی طور پر ہمارا یہ فعل ہوگا کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیں گے اور جن لوگوں نے کبھی اختیار کی اور سیدھی راہ پر چلنا نہ چاہا تو ہمار افعل ان کی نسبت یہ ہوگا کہ ہم ان کے دلوں کو سج کر دیں گے اور پھر اس حالت کو زیادہ تو ضیح دینے کے لئے فرمایا۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا ٣ یعنی جو شخص اس جہان میں اندھار ہاوہ آنے والے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک بندوں کو خدا کا دیدار اسی جہان میں ہو جاتا ہے اور وہ اسی جگ میں اپنے اس پیارے کا درشن پالیتے ہیں جس کے لئے وہ سب کچھ العنكبوت :٧٠ الصف : ٦ ے بنی اسرائیل :۷۳