اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 394
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۸۸ اسلامی اصول کی فلاسفی کافور زہریلے مواد کو د بالیتا ہے اس لئے وہ ہیضہ اور محرقہ تیپوں میں مفید ہے اور پھر جب زہریلے مواد کا جوش بالکل جاتا رہے اور ایک کمزور صحت جو ضعف کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے حاصل ہو جائے تو پھر دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ ضعیف بیمار زنجبیل کے شربت سے قوت پاتا ہے۔ اور زنجبیلی شربت خدا تعالیٰ کے حسن و جمال کی تجلی ہے جو روح کی غذا ہے۔ جب اس تجلی سے انسان قوت پکڑتا ہے تو پھر بلند اور اونچی گھاٹیوں پر چڑھنے کے لائق ہو جاتا ہے اور خدا تعالی کی راہ میں ایسی حیرت ناک سختی کے کام دکھلاتا ہے کہ جب تک یہ عاشقانہ گرمی کسی کے دل میں نہ ہو ہرگز ایسے کام دکھلا نہیں سکتا۔ سو خدا تعالیٰ نے اس جگہ ان دو حالتوں کے سمجھانے کے لئے عربی زبان کے دو لفظوں سے کام لیا ہے۔ ایک کافور سے جو نیچے دبانے والے کو کہتے ہیں اور دوسرے زنجبیل سے جو اوپر چڑھنے والے کو کہتے ہیں اور اس راہ میں بھی دو حالتیں سالکوں کے لئے واقع ہیں۔ باقی حصہ آیت کا یہ ہے۔ اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَأَغْلاً وَسَعِيرًا لے یعنی ہم نے منکروں کے لئے جو سچائی کو قبول کرنا نہیں چاہتے ۔ زنجیریں تیار کر دی ہیں اور طوق گردن اور ایک افروختہ آگ کی سوزش ۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سچے دل سے خدا تعالی کو نہیں ڈھونڈتے ۔ ان پر خدا کی طرف سے رجعت پڑتی ہے وہ دنیا کی گرفتاریوں میں ایسے مبتلا رہتے ہیں کہ گویا پا بز نجیر ہیں۔ اور زمینی کاموں میں ایسے نگونسار ہوتے ہیں کہ گویا ان کی گردن میں ایک طوق ہے جو ان کو آسمان کی طرف سر نہیں اٹھانے دیتا اور ان کے دلوں میں حرص و ہوا کی ایک سوزش لگی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ مال حاصل ہو جائے اور یہ جائیدا دل جائے ۔ اور فلاں ملک ہمارے قبضہ میں آ جائے اور فلاں دشمن پر ہم فتح پا جائیں ۔ اس قدر روپیہ ہو۔ اتنی دولت ہو۔ سو چونکہ خدائے تعالیٰ ان کو نالائق دیکھتا ہے اور برے کاموں میں مشغول پاتا ہے اس لئے یہ تینوں بلائیں ان کو لگا دیتا ہے اور اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب انسان سے کوئی فعل صادر ہوتا ہے تو اسی کے مطابق خدا بھی الدهر ۵