اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 391

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۸۵ اسلامی اصول کی فلاسفی وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ یعنی انسانوں میں وہ اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں ۔ وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے ایسا ہی وہ شخص جو روحانی حالت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان کو بیچ دیتا ہے اور جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے اور اپنے تمام وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو طاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے اور پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں۔ ایسے شوق و ذوق و حضور دل سے بجالاتا ہے کہ گویا وہ اپنی فرماں برداری کے آئینہ میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہم رنگ ہو جاتا ہے اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے اور تمام اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذذ اور احتظاظ کی کشش سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ وہ نقد بہشت ہے جو روحانی انسان کو ملتا ہے اور وہ بہشت جو آئندہ ملے گا۔ وہ درحقیقت اسی کے اظلال و آثار ہیں جس کو دوسرے عالم میں قدرت خداوندی جسمانی طور پر متمثل کر کے دکھلائے گی ۔ اسی کی طرف اشارہ ہے ۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ وَسَقْهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا إنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا۔ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ يُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِيْرًا ! وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَلْجَبَيْلًا عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا ۔ حمد اصل مسودہ میں ” جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں ۔ ( ناشر ) البقرة : ۲۰۸ ۲ الرحمن: ۴۷ الدهر : ۲۲ الدهر: ٧،٦ الدهر : ١٩،١٨