اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 390
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۸۴ اسلامی اصول کی فلاسفی درجه استقامت حاصل کریں گے کہ جب ہمارے وجود کے تمام پرزے اور ہمارے نفس کی تمام قوتیں اسی کام میں لگ جائیں اور ہماری موت اور ہماری زندگی اس کے لئے ہو جائے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے ہے اور جب انسان کی محبت خدا کے ساتھ اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کا مرنا اور جینا اپنے لئے نہیں ۵۰ بلکہ خدا ہی کے لئے ہو جائے۔ تب وہ خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے والوں کے ساتھ پیار کرتا آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اسی لئے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا۔ وہ اسی لئے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنیا ان کے نورانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی جیسا کہ فرماتا ہے۔ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ! یعنی وہ جو منکر ہیں تیری طرف دیکھتے تو ہیں مگر تو نظر انہیں نہیں آتا۔ غرض جب وہ نور پیدا ہوتا ہے تو اس نور کی پیدائش کے دن سے ایک زمینی شخص آسمانی ہو جاتا ہے۔ وہ جو ہر ایک وجود کا مالک ہے اس کے اندر بولتا ہے اور اپنی الوہیت کی چمکیں دکھلاتا ہے اور اس کے دل کو کہ جو پاک محبت سے بھرا ہوا ہے اپنا تخت گاہ بناتا ہے اور جب ہی سے کہ یہ شخص ایک نورانی تبدیلی پا کر ایک نیا آدمی ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے لئے ایک نیا خدا ہو جاتا ہے اور نئی عادتیں اور نئی سنتیں ظہور میں لاتا ہے۔ یہ نہیں کہ وہ نیا خدا ہے یا عادتیں نئی ہیں مگر خدا کی عام عادتوں سے وہ الگ عادتیں ہوتی ہیں جو دنیا کا فلسفہ ان سے آشنا نہیں اور یہ شخص جیسا کہ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے۔ الانعام : ١٦٣ الاعراف: ۱۹۹