اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 374
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۸ اسلامی اصول کی فلاسفی اور جب طبعی حالتوں سے نکال کر اخلاق فاضلہ کے محل عالی تک پہنچایا تو فقط اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اور مرحلہ جو باقی تھا یعنی روحانی حالتوں کا مقام۔ اس تک پہنچنے کے لئے پاک معرفت کے دروازے کھول دیئے اور نہ صرف کھول دیئے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا اور اس طرح پر تینوں قسم کی تعلیم جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کمال خوبی سے بیان فرمائی۔ پس چونکہ وہ تمام تعلیموں کا جن پر دینی تربیت کی ضرورتوں کا مدار ہے کامل طور پر جامع ہے۔ اس لئے یہ دعوی اس نے کیا کہ میں نے دائرہ دینی تعلیم کو کمال تک پہنچایا جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ! یعنی آج میں نے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اور میں تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر خوش ہوا یعنی دین کا انتہائی مرتبہ وہ امر ہے جو اسلام کے مفہوم میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ محض خدا کے لئے ہو جانا اور اپنی نجات اپنے وجود کی قربانی سے چاہنا نہ اور طریق سے اور اس نیت اور اس ارادہ کو عملی طور پر دکھلا دینا۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر تمام کمالات ختم ہوتے ہیں۔ پس جس خدا کو حکیموں نے شناخت نہ کیا قرآن نے اُس بچے خدا کا پتہ بتایا۔ قرآن نے خدا کی معرفت عطا کرنے کے لئے دو طریق رکھے ہیں۔ اول وہ طریق جس کی رو سے انسانی عقل عقلی دلائل پیدا کرنے میں بہت قوی اور روشن ہو جاتی ہے اور انسان غلطی کرنے سے بچ جاتا ہے اور دوسرا روحانی طریق جس کو ہم تیسرے سوال کے جواب میں عنقریب انشاء اللہ تعالی بیان کریں گے۔ دلائل ہستی باری تعالیٰ اب دیکھو کہ عقلی طور پر قرآن شریف نے خدا کی ہستی پر کیا کیا عمدہ اور بے مثل دلائل دیئے ہیں جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔ المائدة م ا اصل مسودہ میں ” اور غلطی کرنے سے بچ جاتی ہے “ کے الفاظ مرقوم ہیں ۔ (ناشر)