اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 357
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۱ اسلامی اصول کی فلاسفی ایصال خیر کے اقسام اب ترک شر کے اقسام ختم ہو چکے۔ اور اب ہم ایصال خیر کے اقسام بیان کرتے ہیں۔ دوسری قسم ان اخلاق کی جو ایصال خیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلا خلق ان میں سے عفو ہے۔ یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔ اس میں ایصال خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق ہوتا ہے کہ اس کو بھی ضرر پہنچایا جائے ، سزا دلائی جائے، قید کرایا جائے ، جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا جائے۔ پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا مناسب ہو تو اس کے حق میں ایصال خیر ہے۔ اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے۔ وَالْكُظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ جَزْوَا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَنَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ ! یعنی نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں۔ بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقع پر بخشے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو، کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو یعنی عین عفو کے محل پر ہونہ غیر محل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ وہ (۳۰) محل اور موقع گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا ہے۔ پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقع بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے ۔ بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے اور بھی دلیر ہو جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اندھوں کی طرح صرف گناہ بخشنے کی عادت مت ڈالو بلکہ غور سے دیکھ لیا کرو کہ حقیقی نیکی کس بات میں ہے ال عمران : ۱۳۵ الشورى: حملہ اصل مسودہ میں بعض وقت ایک مجرم گناہ بخشنے سے تو بہ کرتا ہے اور “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں۔ (ناشر)