اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 336

روحانی خزائن جلدها ۳۳۰ اسلامی اصول کی فلاسفی چیر نے کبھی مرہم لگانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسا ہی قرآنی تعلیم نے بھی انسانی ہمدردی کے لئے ان لوازم کو اپنے محل پر استعمال کیا ہے اور اس کے تمام معارف یعنی گیان کی باتیں اور وصایا اور وسائل کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو ان کی طبعی حالتوں سے جو وحشیانہ رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں اخلاقی حالتوں تک پہنچائے اور پھر اخلاقی حالتوں سے روحانیت کے نا پیدا کنار دریا تک پہنچائے۔ طبعی حالتیں تعدیل سے اخلاق بن جاتی ہیں اور پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ طبعی حالات اخلاقی حالات سے کچھ الگ چیز نہیں بلکہ وہی حالات ہیں جو تعدیل اور موقعہ اور محل پر استعمال کرنے سے اور عقل کی تجویز اور مشورہ سے کام میں لانے سے اخلاقی حالات کا رنگ پکڑ لیتے ہیں اور قبل اس کے کہ وہ عقل اور معرفت کی صلاح اور مشورہ سے صادر ہوں گو وہ کیسے ہی اخلاق سے مشابہ ہوں درحقیقت اخلاق نہیں ہوتے بلکہ طبیعت کی ایک بے اختیار رفتار ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگر ایک کتے یا ایک بکری سے اپنے مالک کے ساتھ محبت اور انکسار ظاہر ہو تو اس کتے کو خلیق نہیں کہیں گے اور نہ اس بکری کا نام مہذب الاخلاق رکھیں گے۔ اسی طرح ہم ایک بھیڑیے یا شیر کو ان کی درندگی کی وجہ (۱۳) سے بد خلق نہیں کہیں گے بلکہ جیسا کہ ذکر کیا گیا، اخلاقی حالت محل اور سوچ اور وقت شناسی کے بعد شروع ہوتی ہے اور ایک ایسا انسان جو عقل و تدبیر سے کام نہیں لیتا وہ ان شیر خوار بچوں کی طرح ہے جن کے دل اور دماغ پر ہنوز قوت عقلیہ کا سایہ نہیں پڑا یا ان دیوانوں کی طرح جو جو ہر عقل اور دانش کو کھو بیٹھتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص بچہ شیر خوار اور دیوانہ ہو وہ ایسی حرکات بعض اوقات ظاہر کرتا ہے کہ جو اخلاق کے ساتھ مشابہ ہوتی ہیں مگر کوئی عظمند ان کا نام اخلاق نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ حرکتیں تمیز اور موقع بینی کے چشمے سے نہیں نکلتیں بلکہ وہ طبعی طور پر تحریکوں کے پیش آنے کے وقت صادر ہوتی جاتی ہیں جیسا کہ انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں کی طرف رخ کرتا ہے اور ایک مرغ کا بچہ پیدا ہوتے ہی دانہ چگنے کے لئے دوڑتا ہے۔ جوک کا بچہ جوک کی عادتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور سانپ کا بچہ سانپ کی عادتیں ظاہر کرتا ہے اور شیر کا بچہ شیر کی عادتیں دکھلاتا ہے۔ بالخصوص انسان کے بچہ حمید اصل مسودہ میں ” عقل اور تدبر “ کے الفاظ مرقوم ہیں۔ (ناشر)