اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 237
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۷ لیکچر سیالکوٹ ترکیب سے ایک کامل خدا بنانا۔ یہ ایک ایسی منطق ہے جو دنیا میں مسیحیوں کے ساتھ ہی خاص ہے ۔ پھر جائے افسوس تو یہ ہے کہ جس غرض کے لئے یہ نیا منصوبہ بنایا گیا تھا یعنی گناہ سے نجات پانا اور دنیا کی گندی زندگی سے رہائی حاصل کرنا وہ غرض بھی تو حاصل نہیں ہوئی بلکہ کفارہ سے پہلے جیسے حواریوں کی صاف حالت تھی اور وہ دنیا اور دنیا کے درم و دینار سے کچھ غرض نہ رکھتے تھے اور دنیا کے گندوں میں پھنسے ہوئے نہ تھے اور اُن کی کوشش دنیا کے کمانے کے لئے نہیں تھی ۔ اس قسم کے دل بعد کے لوگوں کے کفارہ کے بعد کہاں رہے خاص کر اس زمانہ میں جس قدر کفارہ اور خونِ مسیح پر زور دیا جاتا ہے۔ اسی قدر عیسائیوں میں دنیا کی گرفتاری بڑھتی جاتی ہے اور اکثر اُن کے ایک مخمور کی طرح سراسر دن (۴۵) رات دنیا کے شغل میں لگے رہتے ہیں اور اس جگہ دوسرے گناہوں کا ذکر کرنا جو یورپ میں پھیل رہے ہیں خاص کر شراب خواری اور بدکاری اس ذکر کی کچھ حاجت نہیں۔ اب میں عام سامعین کی خدمت میں اپنے دعوئی کے ثبوت میں کچھ بیان کر کے اس تقریر کو ختم کروں گا۔ اے معزز سامعین ! خدا تعالیٰ حق کے قبول کرنے کے لئے آپ صاحبوں کے سینوں کو کھولے اور آپ کو حق نہی کا الہام کرے۔ یہ بات آپ کو معلوم ہوگی کہ ہر ایک نبی اور رسول اور خدا تعالیٰ کا فرستادہ جولوگوں کی اصلاح کے لئے آتا ہے اگر چہ اس کی اطاعت کرنے کے لئے عقل کی رو سے اس قدر کافی ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے وہ حق حق ہو اس میں کسی قسم کا دھوکا اور فریب کی بات نہ ہو کیونکہ عقل سلیم حق کے قبول کرنے کے لئے کسی معجزہ کی ضرورت نہیں سمجھتی لیکن چونکہ انسانی فطرت میں ایک قوت واہمہ بھی ہے کہ باوجود اس بات کے کہ ایک امر فی الواقع صحیح اور سچا اور حق ہو پھر بھی انسان کو وہم اُٹھتا ہے کہ شاید بیان کرنے والے کی کوئی خاص غرض نہ ہو یا اُس نے دھوکا نہ کھایا ہو یا دھوکا نہ دیا ہو اور کبھی بوجہ