اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 236
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۶ لیکچر سیالکوٹ ثابت نہیں ہوئی جو دوسرے نبیوں میں پائی نہ جائے بلکہ بعض دوسرے نبی معجزہ نمائی میں اُن سے بڑھ کر تھے ۔ اور اُن کی کمزوریاں گواہی دے رہی ہیں کہ وہ محض انسان تھے۔ انہوں نے اپنی نسبت کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جس سے وہ خدائی کے مدعی ثابت ہوں اور جس قدر ان کے کلمات ہیں جن سے اُن کی خدائی سمجھی جاتی ہے ایسا سمجھنا غلطی ہے۔ اس رنگ کے ہزاروں کلمات اللہ خدا کے نبیوں کے حق میں بطور استعارہ اور مجاز کے ہوتے ہیں اُن سے خدائی نکالنا کسی عقلمند کا کام نہیں بلکہ انہیں کا کام ہے جو خواہ نخواہ انسان کو خدا بنانے کا شوق رکھتے ہیں۔ اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ میری وحی اور الہام میں اُن سے بڑھ کر کلمات ہیں۔ پس اگر اُن کلمات سے حضرت مسیح کی خدائی ثابت ہوتی ہے تو پھر مجھے بھی (نعوذ بالله ) حق حاصل ہے کہ یہی دعویٰ میں بھی کروں ۔ سویا درکھو کہ خدائی کے دعوی کی حضرت مسیح پر سراسر تہمت ہے۔ انہوں نے ہرگز ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ جو کچھ انہوں نے اپنی نسبت فرمایا ہے وہ الفاظ شفاعت کی حد سے بڑھتے نہیں ۔ سونبیوں کی شفاعت (۴۴) سے کس کو انکار ہے۔ حضرت موسی کی شفاعت سے کئی مرتبہ بنی اسرائیل بھڑکتے ہوئے عذاب سے نجات پاگئے اور میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں۔ اور میری جماعت کے اکثر معزز خوب جانتے ہیں کہ میری شفاعت سے بعض مصائب اور امراض کے مبتلا اپنے دکھوں سے رہائی پا گئے اور یہ خبریں اُن کو پہلے سے دی گئی تھیں اور مسیح کا اپنی امت کی نجات کے لئے مصلوب ہونا اور اُمت کا گناہ اُن پر ڈالے جانا ایک ایسا مہمل عقیدہ ہے جو عقل سے ہزاروں کوس دُور ہے۔ خدا کی صفات عدل اور انصاف سے یہ بہت بعید ہے کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کسی دوسرے کو دی جائے ۔ غرض یہ عقیدہ غلطیوں کا ایک مجموعہ ہے۔ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑنا اور مخلوق کی پرستش کرنا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ اور تین مستقل اور کامل اقنوم قرار دینا جو سب جلال اور قوت میں برابر ہیں ۔ اور پھر ان تینوں کی