اِعجاز المسیح — Page xxviii
واعلق بذیلہ۔و اکیل الناس بکیلہ۔وھا انا اقسم بربّ البریّۃ۔اُؤَکِّدُ العہد لھٰذہ الالیّۃ۔(الھدٰی۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۶۴ ) اور مجھے اس کتاب کی تألیف کی توفیق بخشی گئی۔سو مَیں بعد چھپ جانے اور اس کے بابوں کی تکمیل کے اس کی طرف بھیجوں گا۔پھر اگر منار نے اس کا جواب خوب دیا اور عمدہ ردّ کیا تو مَیں اپنی کتابیں جلادوں گا اور اس کے پاؤں ُ چوم لوں گا اور اس کے دامن سے لٹک جاؤں گا اور پھر لوگوں کو اس کے پیمانہ سے ناپوں گا۔اور لو مَیں پروردگار جہاں کی قسم کھاتاہوں اور اس قسم سے عہد کو پختہ کرتا ہوں۔مگر ساتھ ہی یہ پیشگوئی بھی فر ما دی:۔’’اَم لہ فی البراعۃ یدٌطُولٰی سیھزم فلا یُرٰی۔نبأ من اﷲ الذی یعلم السرّ و اخفٰی۔‘‘ (الھدٰی۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۵۴ ) آیا فصاحت و بلاغت میں اسے بڑا کمال حاصل ہے؟ عنقریب وہ گریز کر جائے گا اور پھر نظر نہ آئے گا یہ پیشگوئی ہے خدا کی طرف سے جو نہاں درنہاں کو جاننے والا ہے۔مدیر المنار کے علاوہ دوسرے ادباء و علماء سے متعلق بھی فرمایا:۔’’ام یزعمون انھم من اھل اللسان۔سیھزمون و یولّون الدبر عن المیدان۔‘‘ (الھدٰی۔روحانی خزائن جلد۱۸صفحہ ۲۶۸ ) کیا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اہلِ زبان ہیں۔عنقریب شکست کھائیں گے اور میدان سے دم دبا کر بھاگیں گے۔‘‘ جب کتاب شائع ہوئی اور اس کا ایک نسخہ شیخ رشید رضا صاحب کو بھی ہدیۃً بھجوایا گیا تو انہوں نے الہدیٰسے قبرِ مسیح سے متعلق مضمون کا بہت سا حصّہ نقل کر کے جو مسیحؑ کی کشمیر کی طرف ہجرت سے متعلق تھااپنے رسالہ المنار میں نقل کر کے لکھا کہ ایسا ہونا عقلاً و نقلاً مستبعد نہیں ہے۔لیکن ا نہیں یہ توفیق نہ ملی کہ اس کے جواب میں ایسی فصیح و بلیغ کتاب لکھ کر آپ کی پیشگوئی کو باطل