اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 822

اِعجاز المسیح — Page xxiii

سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ مَیں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ مَیں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ مَیں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اُس کا نام پا کر اُس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اِس طور کا نبی کہلانے سے مَیں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۲۱۰،۲۱۱ ) اس اختلاف کو جو آپ کی ۱۹۰۱ء سے پہلے اور ۱۹۰۱ء کے بعد کی تحریروں میں نظر آتا ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی میں خود تسلیم فرمایا ہے۔ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ ’’تریاق القلوب‘‘ کے صفحہ ۱۵۷ میں لکھا ہے:۔’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیحؑ پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔‘‘ (دیکھو روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۸۱ بحوالہ تریاق القلوب) پھر ریویو جلد اوّل نمبر ۶ صفحہ ۵۷ ۲ میں مذکور ہے:۔’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘ الغرض دونوں عبارتوں میں تناقص ہے۔حضرت اقدسؑ اس سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:۔’’یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں مَیں نے لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا۔مگر بعد میںیہ لکھا کہ آنے والا مسیح مَیں ہی ہوں۔اِس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی