اِعجاز احمدی — Page 197
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۹۷ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح أَثَارَتْ سَنَابِكَ طِرْفِنَا نَقْعَ فَوُحِكُمْ فَهَلْ مِنْ كَمِيِّ لِّلوَغَى يَتَبَخْتَرُ ہمارے گھوڑوں کے سموں نے تمہاری خاک اڑا دی۔ پس کیا تم میں کوئی سوار ہے جو میدان میں آوے؟ اتُثْبِتُ عَظُمَةُ آيَتِي بِتَقَاعُسٍ وَقَدْ جِئْتَ مُذَا سَاعِيًا لِّتَحَقِّرُ کیا اب تو پیچھے ہٹنے سے میرے نشان کو ثابت کر دے گا ؟ اور تو مد میں دوڑتا ہوا آیا تھا تا میری تحقیر کرے فَإِنْ تُعْرِضَنَّ الْآنَ يَابْنَ تَصَلُّفٍ فَهَذَا عَلَى بَطْنِ الْمُكَذِّبِ خَنْجَرُ پس اگر اب تو نے مقابلہ سے منہ پھیر لیا۔ پس یہ طور تو مکذب کے پیٹ پر ایک تلوار ہے وَإِنْ كُنْتَ تَخْتَارُ الْهَزِيمَةَ عَامِدًا وَتَهْوِى بِوَهْدِ الذُّلِّ عِجْزًا وَّ تَحْدُرُ اور اگر تو عمداً شکست کو اختیار کرے گا اور ذلت کے گڑھے میں عاجزی سے گر پڑے گا فَفِيْهَا نَكَالُ الْعَلَمِينَ وَلَعَنَةٌ وَفِيهَا فَضِيحَتُكُمُ الَا تَتَذَكَّرُ پس اس میں دین و دنیا کا وبال اور لعنت ہے۔ اور اس میں تمہاری رسوائی ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے ؟ وَمَالَكَ لَا تَسْطِيْعُ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا لِاهْلِ صَلَاحٍ كُلُّ أَمْرٍ مُيَسَّرُ اور اگر تو سچا ہے تو کیوں اب تجھے مقابلہ کی قدرت نہیں ہوتی ؟ اور صادق کے لئے ہر ایک کام آسان کیا جاتا ہے وَكُنتَ إِذَا حُيِّرُتَ لِلْبَحْثِ وَالْوَغَا سَطَوُتَ عَلَيْنَا شَاتِمًا لِتُوَكَّرُ اور جب تو مقام مد میں بحث کے لئے انتخاب کیا گیا۔ تو نے ہم پر حملہ کیا تا اس طرح تیری عزت ہو لَعَمْرِي لَقَدْ شَجَّتْ قَفَاكَ رِسَالَتِي وَإِنْ مِنَّ لَا يَأْتِيْكَ عَوْنٌ مُعَزِّرُ اور مجھے قسم ہے کہ میرے رسالہ نے تیرا سرتوڑ دیا اور اب اگر تو مر بھی جائے تو تجھے دود نہیں پہنچنے کی جو تجھے عزت دے و وَكَيْفَ وَأَنْتُمْ قَدْ تَرَكْتُمْ مُعِيْنَكُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ مَوْلَى وَمَنْ هُوَ يَنصُرُ اور تمہیں مدد کیونکر پہنچتی ۔ تم تو خدا کو چھوڑ بیٹھے۔ اور تمہارا اب کوئی مول نہیں جو تمہیں مدد دے افِيكُمْ كَمِي ذُونِضَالِ شَمَرُدَلٌ فَإِنْ كَانَ فَلْيَحْضُرُ وَلَا يَتَأَخَّرُ کیا تم میں کوئی سوار لڑنے والا بہادر موجود ہے؟ پس اگر ہو تو چاہیے کہ حاضر ہو جائے اور توقف نہ کرے وَجتُنَاكَ يَاصَيدَ الرَّدَى بِهَدِيَّةٍ وَنُهْدِى إِلَيْكَ الْمُرْهِفَاتِ وَنَعْقِرُ اور اے وبال کے شکار ! ہم تیرے پاس ایک ہدیہ لے کر آئے ہیں اور ہم تیز تلواروں کا یعنی لا جواب قصیدہ کا تجھے ہدیہ دیتے ہیں