اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 566

اِعجاز احمدی — Page 163

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۶۳ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح أَقَلْبُ حُسَيْنِ يَهْتَدِى مَنْ يُظُنُّهُ عَجِيْبٌ وعِندَ اللهِ هَيْنٌ وأَيْسَرُ کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آ جائے گا یہ کون گمان کر سکتا ہے؟ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے ثَلَثَةُ أَشْخَاصِ بِهِ قَدْ رَأَيْتُهُمْ وَ مِنْهُمُ الْهِيُّ بَخْشُ فَاسْمَعُ وَ ذَكَّرُ تین آدمی اس کے ساتھ اور ہیں۔ ایک اُن میں سے الہی بخش اکو نٹنٹ ملتانی ہے پس سن اور سنا دے لَعَمُرُكَ ذُقْنَا دُونَ ذَنْبٍ رِمَاحَهُمْ فَمَا سَرَّنَا إِلَّا دُعَاءٌ يُكَرَّرُ تیری قسم ! کہ ہم نے بغیر گناہ کے ان کے نیزوں کا مزہ چکھا پس ہمیں یہی اچھا معلوم ہوا کہ ان کے حق میں دعا کرتے ہیں مَتَى ذُكِّرُوا يَغْتَمُّ قَلْبِي بِذِكْرِهِمُ بِمَا كَانَ وَقْتْ بِالْمُلَا قَاةِ نُبُشِرُ | جب روڈ کر کئے جاتے ہیں تو میرا اول غمناک ہو جاتا ہے کیونکہ یاد آتا ہے کہ ایک دن ہم ملاقات سے خوش ہوتے تھے ا أرضِعُتَ مِنْ غُولِ الْفَلَا يَا اَبَا الْوَفَا فَمَالَكَ لَا تَخْشَى وَلَا تَتَفَكَّرُ کیا تجھے جھوٹ کا دودھ پلایا گیا ؟ اے شاء اللہ! پس تجھے کیا ہوگیا کہ نہ ڈرتا ہے نہ فکر کرتا ہے تَرَكْتُمُ سَبِيلَ الْحَقِّ وَالْخَوْفِ وَالْحَيَا وَجُزُتُمْ حُدُودَ الْعَدْلِ وَاللهُ يَنْظُرُ تم نے حق کو چھوڑ دیا اور عدل سے باہر ہو گئے اور اللہ دیکھتا ہے وَكَيْفَ تَرى نَفْسٌ حَقِيقَةً وَحَيْنَا يُصِرُّ على كذب و بِالسُّوءِ يَجْهَرُ ایسا آدمی ہماری وحی کی حقیقت کیا جانتا ہے جو جھوٹ پر اصرار کرتا ہے اور کھلی بدگوئی کرتا ہے وَ اِنْ كُنْتُ كَذَّابًا كَمَا هُوَ زَعْمُكُمْ فَكِيدُوا جَمِيعًا لِي وَلَا تَسْتَأْخِرُوا اور اگر میں تمہارے نزدیک جھوٹا ہوں۔ تو میری بربادی کیلئے تم سب کوشش کرو اور پیچھے مت ہٹو وَإِنَّ ضِيَائِي يَبْلُغُ الْأَرْضَ كُلَّهَا اَتُنْكِرُهَا فَاسْمَعُ وَإِنِّي مُذَكَّرُ (٥٢) اور میری روشنی دُنیا میں پھیل جائے گی ۔ کیا تو انکار کرتا ہے؟ پس سن رکھا اور میں یاد دلاتا ہوں عَقَرُتَ بِمُدَّ صَحْبَتِي يَا أَبَا الْوَفَا بِسَبٌ وَ تَوْهِينِ فَرَبِّي سَيَقُهَرُ اے ثناء اللہ تو نے مد میں ہمارے دوستوں کو رنج پہنچایا۔ گالی سے اور توہین سے پس میرا خدا عنقریب غالب ہو جائے گا جَلَا لَكَ رَبِّي اَبْتَغِي لَا جَلَالَتِي وَأَنْتَ تَرَى قَلْبِي وَ عَزْمِي وَ تُبْصِرُ اے میرے خداوند ! میں تیرا جلال چاہتا ہوں نہ اپنی بزرگی اور تو میرے دل کو اور میرے قصد کو دیکھ رہا ہے نشان شدہ مصرعہ میں سہو کتابت سے ترجمہ کا کچھ حصہ لکھنے سے رہ گیا ہے۔ پورا ترجمہ یوں ہوگا تم نے حق اور خوف اور حیا کے راستے کو چھوڑ دیا‘ (ناشر)