اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 566

اِعجاز احمدی — Page 160

روحانی خزائن جلد ۱۹ 17+ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح بَلَاءٌ عَلَيْكُمْ وَالْعَلَاجُ إِنَابَةٌ وَبِالْحَقِّ أَنْذَرُنَا وَبِالْحَقِّ تُنْذِرُ تم پر ایک بلا ہے اور اس کا علاج تو بہ کرنا اور ہر ایک گناہ سے پر ہیز کرتا ہے۔ ہم نے بچے طور پر متنبہ کر دیا اور کر رہے ہیں دَعُوا حُبَّ دُنْيَاكُمْ وَحُبَّ تَعَصُّبٍ وَمَنْ يَشْرَبِ الصَّهْبَاءَ يُصْبِحُ مُسَكَّرُ دنیا کی محبت اور تعصب کی محبت چھوڑ دو۔ اور جو شخص رات کو شراب پیئے گا وہ صبح خمار کی تکلیف اُٹھائے گا وَكَمْ مِّنْ هُمُوْمٍ قَدْ رَأَيْنَا لَاجُلِكُمْ وَنَضْرَمُ فِي الْقَلْبِ اضْطِرَامًا وَّ نَضْجَرُ اور بہت غم ہم نے تمہارے لئے اُٹھائے ۔ اور اب بھی ہمارے دل میں تمہارے لئے آگ ہے جس کو ہم پوشیدہ رکھتے ہیں أَصِيحُ وَقَدْ فَاضَتْ دُمُوعِى تَأَلُّمًا وَقَلْبِي لَكُمْ فِي كُلِّ ان يُوَفَّرُ میں آواز مارتا ہوں اور میرے آنسو درد سے جاری ہیں۔ اور میرا دل ہر ایک دم تمہارے لئے گرم کیا جاتا ہے فَسَلُ أَيُّهَا الْقَارِئُ أَخَاكَ اَبَا الْوَفَا لِمَا يَخْدَعُ الْحَمُقَى وَقَدْ جَاءَ مُنْذِرُ پس اے قاری ! تو اپنے بھائی شاء اللہ سے پوچھ ۔ کیوں احمقوں کو فریب دے رہا ہے اور ڈرانے والا آگیا الا رُبَّ خَصْمِ قَدْ رَأَيْتُ جِدَالَهُ وَمَا إِنْ رَأَيْنَا مِثْلَهُ مَنْ يُزَوِّرُ خبر دار ہو! میں نے بہت بحث کرنے والے دیکھے ہیں مگر اس جیسا فریبی میں نے کوئی نہیں دیکھا عَجِبْتُ لِمَبْحَتِهِ إِلَى ثُلُثِ سَاعَةٍ وَكَانَ مَحَلُّ الْبَحْثِ اَوْ كَانَ مَيْسِرُ | مجھے تعجب آیا کہ اُس نے بحث کا زمانہ میں منٹ مقرر کیا۔ کیا یہ بحث تھی یا کوئی قمار بازی تھی؟ أَمُكْفِرٍ مَهْلًا كُلَّمَا كُنتَ تَذْكُرُ وَاَهْلِ كَمِثْلِى ثُمَّ أَنتَ مُظَفَرُ اے میرے کافر کہنے والے اگذشتہ سب باتیں چھوڑ دے۔ اور میری مانند قصیدہ لکھ پھر تو فتحیاب ہے رَضِيتُ بِأَنْ تَخْتَارَ فِي النَّمْقِ رُفْقَةً وَإِنَّا عَلَى إِمْلَاءِ هِمْ لَا نُعَيْرُ میں نے یہ بھی قبول کیا کہ اگر تو مقابلہ سے گرے تو اپنے رفیق بنالے۔ اور ہم اُن کے لکھنے میں کوئی سرزنش تجھے نہیں کریں گے فَمَا الْخَوْف فِي هَذَا الْوَغَا يَا اَبَا الْوَفَا لِيُمُل حُسَيْن أَو ظَفَرُ أَوْ أَصْغَرُ پس اے ثناء اللہ اس لڑائی میں تجھے کیا خوف ہے۔ چاہیے کہ محمد حسین اس کا جواب لکھے یا قاضی ظفر الدین یا اصغر علی وَ إِنِّي أَرَى فِى رَأْسِهِمْ دُودَ نَخْوَةٍ فَإِنْ شَاءَ رَبِّى يُخْرِجَنَّ وَيَجُذُرُ اور میں ان کے سر میں تکبر کے کپڑے دیکھتا ہوں۔ اور اگر خدا چاہے تو وہ کیڑے نکال دے گا اور جڑ سے اکھاڑ دے گا