اِعجاز احمدی — Page 120
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۲۰ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح ۱۳) کہا جاوے۔ پس اس اُمت کا یہود بنا جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے سمجھا جاتا ہے اس بات کو چاہتا ہے کہ جو یہود مغضوب علیہم کے مقابل مسیح آیا تھا اس کا مثیل بھی اس اُمت میں سے آوے۔ اسی کی طرف تو اس آیت کا اشارہ ہے ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ " افسوس کہ وہ حدیث بھی اسی زمانہ میں پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ مسیح کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہوں گے اور پہلے یہودیوں پر ہم کیا افسوس کریں وہ تو اعتراض کے وقت کتاب اللہ کو پیش کرتے تھے گو معنے نہیں سمجھتے تھے مگر یہ لوگ صرف من گھڑت باتیں پیش کرتے ہیں۔ اور یہود تو حضرت عیسی کے معاملہ میں اور اُن کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قومی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا اُن پر ہے کہ اُن کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔ اسی وجہ سے ہم اُن پر ایمان لائے کہ وہ چے نی ہیں اور برگزیدہ ہیں۔ اور ان تہمتوں سے معصوم ہیں جو ان پر اور ان کی مں پر لگائی گئی ہیں۔ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑی ہمتیں اُن پر دو تھیں۔ (1) ایک یہ کہ اُن کی پیدائش نعوذ باللہ لعنتی ہے یعنی وہ نا جائز طور پر پیدا ہوئے۔ (۲) دوسری یہ کہ اُن کی موت بھی لعنتی ہے کیونکہ وہ صلیب کے ذریعہ سے مرے ہیں اور توریت میں لکھا تھا کہ جو ولد الزنا ہو وہ ملعون ہے وہ ہرگز بہشت میں داخل نہیں ہوگا اور اُس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہو گا ۔ اور ایسا ہی یہ بھی لکھا تھا کہ جو لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی جس کی صلیب کے ذریعہ سے موت ہو وہ بھی لعنتی ہے اور اُس کا بھی خدا کی طرف رفع نہیں ہوگا یہ دونوں اعتراض بڑے سخت تھے ۔ خدا نے قرآن شریف میں ان دونوں اعتراضات کا ایک ہی جگہ جواب دیا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا | الفاتحة : الفاتحة : ٧،٦