اِعجاز احمدی — Page 119
روحانی خزائن جلد ۱۹ ١١٩ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح اور اُس پر اُسی کے بھائیوں کا کفر کا فتویٰ بھی لگایا گیا۔ اب کہو کہ اس منافقانہ کارروائی سے اُس کی عزت ہوئی یا ذلت ۔ ذلت صرف اسی کا نام نہیں کہ برسر بازار کسی کے سر پر جوتے پڑیں بلکہ جو شخص مولوی اور متقی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُس کا منافقانہ چلن اگر ثابت ہو جائے تو اُس سے بڑھ کر اُس کی کوئی ذلت نہیں۔ منافق سے ذلیل تر اور کوئی نہیں ہوتا۔ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔ یہ کس قدرسیاہی کا ٹیکا ہے کہ لوگوں کے سامنے بیان کرنا کہ مہدی کا آنا حق ہے اور انکار کفر ہے اور خوب لڑائیاں ہوں گی اور گورنمنٹ کو خوش کرنے کے لئے یہ کہنا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ اگر اب بھی ذلت نہیں ہوئی تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ آپ لوگوں کی عزتیں ایک ریختہ کی عمارت سے بھی زیادہ پکی ہیں کہ کسی بدچلنی سے اُن میں فرق نہیں آتا۔ رہی عزت جعفر زٹلی کی پس ان لوگوں کا کوئی مستقل وجود نہیں۔ یہ سب مولوی محمد حسین کے سایہ ہیں وہ ان کا ایڈوکیٹ جو ہوا جبکہ اُن کے ایڈوکیٹ کی ذلت ثابت ہو گئی تو کیا اُن کی ذلت پیچھے رہ گئی ۔ سایہ اصل کا ہمیشہ تابع ہوتا ہے جبکہ اصل درخت ہی گر پڑا تو سایہ کیونکر کھڑا رہ سکتا ہے۔ اب بھی اگر کسی کو شک ہو تو دونوں بیان مولوی محمد حسین کے میرے پاس موجود ہیں۔ ایک بیان تو قوم کے خوش کرنے کے لئے اور دوسرا بیان گورنمنٹ کے خوش کرنے کے لئے وہ دونوں بچشم خود دیکھ لے اور پھر آپ انصاف کرے کہ مولوی کہلا کر اور موحدوں کا ایڈووکیٹ بن کر یہ منافقانہ کا رروائی ۔ کیا یہ موجب عزت ہے یا ذلت ۔ ہم نے تو اس زمانہ میں یہود دیکھ لئے اور ہم ایمان لائے کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ " اسی بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ اس قوم میں بھی مغضوب علیہم یہودی ضرور پیدا ہوں گے سو ہو گئے اور پیشگوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری ہو گئی مگر کیا یہ امت کچھ ایسی ہی بد قسمت ہے کہ ان کی تقدیر میں یہود بننا ہی لکھا تھا۔ اس فعل کو ہم خدائے کریم کی طرف کبھی منسوب نہیں کر سکتے کہ یہود مردود بننے کے لئے تو یہ اُمت اور مسیح بنی اسرائیل سے آوے ایسی کارروائی سے تو اس اُمت کی ناک کٹتی ہے اور اس خطاب کے لائق نہیں رہتی کہ اس کو امت مرحومہ النساء : ۱۴۶ ۲ الفاتحة: ۷