اِعجاز احمدی — Page 116
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۱۶ اعجاز احمدی ضمیمه نزول لمسیح مجھے اس غلطی کا مرتکب کر کے کہ میں نے عیسی کی آمد ثانی کا اسی کتاب میں ذکر کر دیا جہاں میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر تھا میری سادگی اور عدم افترا کو ظاہر کر دیا۔ ورنہ کیا شک تھا کہ وہ سب الہامات جو براہین احمدیہ میں مندرج ہیں جو مجھے مسیح موعود بناتے ہیں وہ تمام افتر اپر محمول ہوتے اور یہ بات تو کوئی عقل سلیم قبول نہیں کرے گی کہ جو دعویٰ مسیح موعود ہونے کا براہین احمدیہ سے بارہ سال بعد پیش کیا گیا اس کا منصوبہ اتنی مدت پہلے بنا رکھا تھا۔ غرض اسی کتاب میں جس میں میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر ہے حضرت عیسی کی آمد ثانی کا بھی ذکر ہونا یہی میری سادگی اور عدم افترا پر ایک زندہ گواہ ہے۔ افسوس کہ ہمارے مخالفوں کی کچھ ایسی عقل ماری گئی ہے کہ وہ ہر ایک بات کی ایک ٹانگ لے لیتے ہیں اور دوسری چھوڑ دیتے ہیں۔ آتھم عیسائی کے ذکر کے وقت شرط کا نام نہیں لیتے اور اس کا پیشگوئی کے مطابق مرجانا اور داخل قبر ہو جانا جو پہلے سے بیان کیا گیا تھا زبان پر 10 نہیں لاتے اور جن واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ آتھم نے آنحضرت صلعم کو دجال کہنے سے رجوع کیا اُن واقعات کا نام نہیں لیتے ۔ کیا مجال کہ اُن واقعات کی طرف اشارہ بھی کریں سب کھا جاتے ہیں اور جب احمد بیگ کے داماد کا ذکر کرتے ہیں تو ہر گز لوگوں کو نہیں بتلاتے کہ ایک حصہ اس پیشگوئی کا میعاد کے اندر پورا ہو چکا ہے یعنی احمد بیگ میعاد کے اندر مر گیا اور دوسرا حصہ قابل انتظار ہے اور یہ بھی نہیں بتلاتے کہ پیشگوئی وعید کے متعلق اور نیز شرطی تھی جیسا کہ الهام توبی توبی فان البلاء علی عقبک سے ظاہر ہوتا ہے جو کئی دفعہ شائع ہو چکا تھا اور ظاہر ہے کہ ایسی موت کے بعد جو احمد بیگ کی موت تھی خوف دامنگیر ہونا ایک طبعی امر تھا۔ پس اُسی خوف سے دوسرے حصہ کے پورے ہونے میں تاخیر ہو گئی جیسا کہ وعید کی پیشگوئیوں میں عادت اللہ ہے مگر یہ بد اندیش مخالف ان امور کا کبھی ذکر بھی نہیں کرتے ۔ اور یہودیوں کی طرح اصل صورت حال کو مسخ کر کے ایسے طور سے تقریر کرتے ہیں جس سے جاہلوں کے دلوں میں شبہات ڈال دیں بلکہ ان لوگوں نے تو یہودیوں کے بھی کان کاٹے کیونکہ یہ لوگ تو