اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 566

اِعجاز احمدی — Page 115

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۱۵ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح اُٹھا سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ براہین احمدیہ سے بارہ برس بعد کیوں اس پہلے عقیدہ کو چھوڑ دیا گیا۔ گوایسا کہنا بھی فضول تھا کیونکہ انبیاء اور مسلمین صرف وحی کی سچائی کے ذمہ وار ہوتے ہیں اپنے اجتہاد کے کذب اور خلاف واقعہ نکلنے سے وہ ماخوذ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ان کی اپنی رائے ہے نہ خدا کا کلام تاہم عوام کے آگے یہ دھوکا پیش جا سکتا تھا مگر اب تو ایسے پوچ اعتراض کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ اُسی براہین احمدیہ میں اظہار دعوئی سے بارہ برس پہلے جا بجا مجھے مسیح موعود قرار دیا گیا ہے اور عقلمند کے آگے میری سچائی کے لئے یہ نہایت صاف دلیل ہے۔ غرض براہین احمدیہ میں حضرت عیسی کی دوبارہ آمد کا ذکر ایک نادان کو اُس وقت دھوکا دے (9) سکتا تھا جبکہ براہین احمدیہ میں میرے مسیح موعود ہونے کی نسبت کچھ ذکر نہ ہوتا مگر وہ ذکر تو ایسا صاف تھا کہ لدھیانہ کے مولویوں محمد اور عبدالعزیز اور عبد اللہ نے اسی زمانہ میں اعتراض کیا تھا کہ شخص اپنا نام عیسی رکھتا ہے اور عیسی کی نسبت جس قدر پیشگوئیاں ہیں وہ سب اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور ان کا جواب مولوی محمد حسین نے اپنے ریویو میں دیا تھا کہ یہ اعتراض فضول ہے کیونکہ اسی براہین میں حضرت عیسی کی آمد ثانی کا اقرار بھی تو موجود ہے۔ پس میں خدا کی حکمت عملیوں پر قربان ہوں کہ کیسے لطیف طور سے پہلے سے میری بریت کا سامان براہین میں تیار کر رکھا ۔ اگر براہین احمدیہ میں حضرت عیسی کی آمد ثانی کا کچھ بھی ذکر نہ ہوتا اور صرف میرے مسیح موعود ہونے کا ذکر ہوتا تو وہ شور جو سالہا سال بعد پڑا اور تکفیر کے فتوے تیار ہوئے یہ شور اُسی وقت پڑ جاتا ۔ اور اگر براہین میں صرف حضرت مسیح کی آمد ثانی کا ذکر ہوتا اور میرے مسیح موعود ہونے کے الہامات اس میں مذکور نہ ہوتے تو جاہلوں کے ہاتھ میں ایک حجت آجاتی کہ براہین میں تو حضرت عیسی کی آمد ثانی کا اقرار تھا اور پھر بارہ برس بعد اُس آمد سے انکار کیوں کیا گیا مگر ایک طرف وحی الہی کا براہین میں مجھے مسیح موعود قرار دینا اور ایک طرف اس کے برخلاف میرے قلم سے رسمی عقیدہ کے طور پر آمد ثانی مسیح کا ذکر ہونا یہ ایسا امر ہے کہ عقلمند اس سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ خاص خدا کی حکمت عملی ہے۔ غرض خدا کی حکمت عملی نے