حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 494

حجة اللہ — Page 248

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۴۸ حجة الله ۱۰۰ تبصر خصیمی هل ترى مِن علامةٍ بها يُعرف الكذَابُ عند المحقق اے میرے دشمن خوب دیکھ کیا تو کوئی علامت پاتا ہے جس جھوٹا پہچانا جاتا ہے إذا ما نقول هلم لا تنبری لنا وفی بیتک المنحوس تهذى وترتقى جب کہیں آ تو ہمارے مقابل پر آتا نہیں اور اپنے منحوس گھر میں لکھتا اور اوپر چڑھتا ہے دعوت فأكثرت الدعاء لنَكْبَتي فواللهِ زدنا بعده في التفنَّقِ تو نے بددعا کی اور میرے ادبار کیلئے بہت بددعا کی پس بخدا ہم بعد اس کے تنعم میں زیادہ ہوئے عرَضُنا عليكم رحمةً أمرَ ربِّنا فلم تحفـلـوا كبرا وقد كنتُ أُشْفِقِ ہم نے مہربانی سے اپنا رب کا امر تمہارے پیش کیا پس تم نے کچھ پرواہ نہ کی اور میں ڈرتا تھا وقلت لكم توبوا ولا تتركوا الحيا فزدتم عنادا واعتديتـم كـأفسَقِ اور میں نے کہا کہ تو بہ کرو اور حیا کو مت چھوڑو پس تم عناد کی روسے بڑھ گے اور حد سے زیادہ گذر گئے جیسا کہ فاسق ہوتے ہیں وإني حبسـت الـنـفـس عند فضولكم صبورًا على سب وشتم مُحرّقِ اور میں نے تمہاری بکواس کے وقت اپنے تئیں روکا اور تمہاری گالیوں پر صبر کیا ووالله لا يُخزى الصدوق بقولكم أيُرهِقُ قَتَرٌ وجهَ مَن كانَ أصْدَقِ اور بخدا صادق تمہاری بات کے ساتھ رسوا نہیں کیا جائیگا کیا صادق کے منہ پر غبار آسکتی ہے فتوبوا إلى الرب الورى واستغفروا ولا تشتروا بالحق عيشَا مُرَمَّقٍ پس خدا کی طرف تو بہ کرو اور گناہ کی معافی چاہو اور تھوڑے عیش کے لئے حق کو مت چھوڑو خاتمة الكتاب إن كتابي هذا آخر الوصايا للعُلَمَاء ، الذين تصدوا للتكذيب والاستهزاء يا حسرة عليهم وعلى ما أروا من حالةٍ ! إنّهم فتحوا على الناس أبواب ضلالة، في زمن تطايرت فيه الفتن كشعلة جَوّالة، والناس كانوا تائهين فى موماةٍ بطالة، فألقاهم العلماء في وهدٍ مُغتالةٍ، وجمعوا لهم قذائف جهالة، ثم أوقدوا قذائفهم بقبس ودبالةٍ، وصاروا لهم كضِغْثِ على إِبَالة، واختارُوا مَدرَج اليهود ، وسلكوا مسلك الغى والعنود، وما كانوا مُنْتَهين ۔ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے اپنے “ہونا چاہیے۔ (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” رَبِّ الوری “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)