حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 494

حجة اللہ — Page 232

روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ۸۴ أطلت لسانك كالبغايا وقاحةً ظلمتك جهلا يا أخا الغُول فاتّقِ تو نے بدکار عورتوں کی طرح اپنی زبان دراز کی اور اے دیو تو نے اپنے پر ظلم کیا وأعلم أن جموعكم أيها الغوى على حراصٌ لو تُسرون مُوبقى اور اسے گمراہ میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے گروہ میرے قتل کے لئے سخت حریص میں اگرمیرے قتل کا موقع پاؤ فأقسمتُ جَهُدًا بالذى هُوَ رَبِّنا سأصلى قلوب المفسدين وأحرق پس میں نے خدا تعالیٰ کی قسم کھائی ہے کہ عنقریب میں مفسدوں کے دل جلاؤں أكف لساني كل كفّ فإن تَرُمُ بِخُبثِ فإنى دامعُ هامة الشقى میں جہاں تک ممکن ہے زبان کو بند رکھتا ہوں پس اگر تو محبت کا ارادہ کرے تو میں شقی کا سر توڑنے والا ہوں وأَشْرَاك ما قُلُنا وقد فُهُتَ بالهجا بكلِم أسالتني إليك فأغْلَقِ اور میری بات مجھے غصہ میں لائی اور تو پہلے بد گوئی کر چکا ایسے کلموں کے ساتھ جنہوں نے مجھے غصہ دایا پس میں غصہ کرتا ہوں ولا خير في رفق إذا لم تكن به مواضع رفـق تـطلـب الــرفـق كالحق اس نرمی میں بہتری نہیں جوزی کے کل پ نہ ہوا یا گل جوڑی کو چاہتا ہے اورحق کی طرح اس کو مانگا ہے اور ولو قَبْلَ سبّ المُكْفِرين سببتهم الكنتُ ظلوما مُسْرفًا غير متقى اور اگر کافر ٹھہرانے والوں کے گالی دینے سے پہلے میں گالی دیتا تو میں ظالم اور حد سے گزرنے والا اور نا پر ہیز گار ہوتا ولكـن هـجـوا قبلى فأوجَبَ لى الهجا | هـجـاهـم فما عُدْوانُ عبدِ مُسَبَّقِ مگر انہوں نے مجھ سے پہلے ہجو کی پس ان کی ہجو نے مجھے جو پربرانگیختہ کیا اس اوراس شخص پر کیا الزام جس پر سبقت کئے گئے وقد كفرون وفسقون وإنهم كذئب سطوا أو مثل سيف مُشَقِّقِ | انہوں نے مجھے کافر ٹھہرایا اور فاسق ٹھہرایا اور انہوں نے بھیڑیے کی طرح حملہ کیا یا پھاڑنے والی تلوار کی طرح وما كان قصدى أن أكلم مثلهم ولكنّهم قد كلفوني فأُقْلَقِ اور میری نیت نہ تھی کہ ان کی طرح گفتگو کروں مگر مجھے انہوں نے تکلیف دی پس میں بے آرام کیا گیا لهم صولُ كَلْبِ والتحوّى كحية وعاداتُ سِـرحـان وقـلـب كـخِرُنِقِ ان کا کتے کی طرح حملہ ہے اور سانپ کی طرح کی کتاب ہے اور بھیڑیے کی طرح عادتیں ہیں اور خرگوش کا دل ہے