حجة اللہ — Page 231
روحانی خزائن جلد ۱۲ خير ۲۳۱ حجة الله ترى قوله من كُل خاليا كنبت خبيث الريح مُرٍ سَنَعْبَقِ (۸۳) تو اس کی بات کو ہر ایک نیکی سے خالی پائے گا جیسا کہ ایک پلید بوٹی بد بو والی کڑوی جس کا نام سنعبق ہے فَيُقْطَع نبت لا مُريح وجوده وكل نخيل لا محالة يَسمُقِ اپس ایسی بوٹی کاٹ دی جاتی ہے جس کا وجود کچھ فائدہ نہیں دیتا اور ہر ایک کھجور کا درخت ضرور اپنی لمبائی تک پہنچ جاتا ہے وإنى من المولى عُذَيقٌ مُرَجَبٌ فيُعرَقُ قاطع شجرتى كلَّ مَعْرَقِ اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ کھجور ہوں جو بار پس جو شخص میرے درخت کو قطع کرنا چاہے گا کثرت میوہ کے اس کے نیچے ستون دیا گیا ہے اس کے بدن سے گوشت علیحدہ کیا جائیگا حسبتم قتال الصادقين كهين وإن سهام الصادقين سيَخزِقِ تم نے صادقوں کی لڑائی کو آسان سمجھ لیا ہے اور صادقوں کے تیر آخر نشانہ پر لگا کرتے ہیں تقدمت "عبد الحق في السب والهجا فأُقْرِيك ما أهديت لى كالمُشوّق اے عبد الحق تو نے گالیوں میں پیشقدمی کی پس میں تیری ویسی ہی دعوت کروں گا جیسا کہ تو نے اپنی آرزو سے تحفہ دیا وسميتنى كلبًا وقد فُهُتَ شاتما وجاوزت حد الأمر يا أيها الشقى اور میرا نام تو نے کتا رکھا اور گالیوں سے تو نے منہ کھولا اور اے شقی تو زیادہ گزر گیا ومــا الــكـلـب إلا صورة أنت روحها فمثلك ينبح كالكلاب ويزعق اور کتا ایک صورت ہے اور تو اس کی روح ہے پس تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے رميتك إذ عرضت نفسَك رميةً ومَن أكثر التفسيق يوما يُفسَّقِ میں نے تجھے اس وقت گالی دی جبکہ تونے اپنے نفس کو گالی کانشانہ بنادیا اور جو بدکار کہنے میں حد سے زیادہ گزر جائے آخر وہ بدکار ٹہرایا جاتا ہے۔ فأسقيك مِمّا قلت كأسًا رويّةً وذالك دَين لازم كيف يُـمـحـقِ میں تیرے ہی قول سے تجھے لبالب پیالے پلاؤں گا اور یہ لازم الادا قرض ہے پس اس سے کم نہیں کیا جائے گا فذُق أيها الغالي طعام التبادل صفيفٌ شِواء بالجبيز المرفق پس اے غلو کرنے والے بھاجی کا کھانا کھا بھنا ہوا گوشت ہے چپاتی کے ساتھ لطَمُناک تنبيها فألغيتَ لَطْمَنا فليتَ لنا الـنـعـلـينِ مِن جلدِ عَوهَقِ ہم نے تنبیہ کے لئے تجھے طمانچہ مارا مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا پس کاش ہمارے پاس مضبوط اونٹ کے چھڑے کا جوتا ہوتا وتسمع منى كلُّ سبّ تريده وإن ترفُقَنُ في القول والصول أرفق اور جو گالی تو دینا چاہے گا وہ ہم سے سنے گا اور اگر تو بات اور حملہ میں نرمی کرے گا تو ہم بھی نرمی کریں گے حد سے