حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 494

حجة اللہ — Page 224

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۴ القَصِيدَة الثانية حجة الله لك الحمد يا ترسی و جرزی و جوشقی | بحمدك يُرْوَى كلُّ مَن كان يستقى اے میری پناہ اور میرے قلعہ تیری تعریف ہو تیری تعریف سے ہر ایک شخص جو پانی چاہتا ہے میراب ہو جاتا ہے بذکرک یجری کلُّ قلب قد اعتقى بحبك يحيى كل مَيْتٍ مُمَزّق تیرے ذکر کیساتھ ہر ایک دل ٹھہرا ہوا جاری ہو جاتا ہے اور تیری محبت کے ساتھ ہر ایک مردہ زندہ ہو جاتا ہے وباسمك يُحفظ كلُّ نفس من الردا وفضلك يُـنـجــى كـلَّ مَن كان يُزبَقِ اور تیرے نام کے ساتھ ہر ایک شخص ہلاکت سے بچتا ہے اور تیرا فضل ہر ایک قیدی کو رہائی بخشتا ہے ومــا الـخـيــر إلا فيك يا خالق الورى وما الكهف إلا أنت يا مُتَّكَاً التَّقِى اور تمام نیکی تیری طرف سے ہے اے جہان آفرین اور تو ہی پرہیز گاروں کی پناہ ہے وتـعـنـو لك الأفلاك خوفا وهيبة وتجرى دموع الراسيات وتثق اور تیرے آگے خوفناک ہو کر آسمان جھکے ہوئے ہیں اور پہاڑوں کے آنسو جاری اور رواں ہیں وليس لقلبی یا حفیظی و ملجأى سواك مُريح عند وقت التأزُقِ | اور میرے دل کیلئے اے میرے نگہبان اور پناہ کوئی دوسرا آرام پہنچانے والا نہیں جب تنگی وارد ہو يميل الورى عند الكروب إلى الورى وأنت لنا كهف كبيتٍ مُسَردَقِ دکھ کے وقت خلقت خلقت کی طرف توجہ کرتی ہے اور تو ہمارے لئے ایسی پناہ ہے جیسے نہایت مضبوط گھر وإنك قد أنزلت آياتِ صدقنا فـويـل لـعُـمـر لا يـراهـا وينهي | اور تو نے ہمارے صدق کے نشان اتارے ہیں پس وہ نادان ہلاک شدہ ہے جو ان نشانوں کو نہیں دیکھتا اور بے معنی شور کرتا ہے ألم يرَعِجُلا مات فى الحى داميًا أهـذا مـن الـرحمـن أو فعل بندقي؟ کیا اس گوسالہ کو اس نے نہیں دیکھا جواپنے قبیلہ میں خون آلودہ ہوکر مر گیا کیا یہ خدا کا فعل ہے یا میری بندوق کا کام ہے أرى الله آيته بتدمير مفسد وتعرفها عين رأت بالتعمق خدا نے اپنا نشان ایک مفسد کو ہلاک کر کے دکھلا دیا اور اس نشان کو وہ آنکھ پہچان سکتی ہے جو غور سے دیکھے وما كان هذا أوّلَ الآى لـلـعـدا بـل الآى قد كثرت فأمـعِـن وحقق اور یہ دشمنوں کے لئے کوئی پہلا نشان نہیں بلکہ نشان بہت ہیں پس سوچ اور تحقیق کر