حجة اللہ — Page 222
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۲ حجة الله ملک فلا يُخزى عزيز جنابه إن المقرَّب لا أبا لك يُكرَمُ اور وہ بادشاہ ہے اس کی جناب کا عزیز بھی رسوا نہیں ہوتا مقرب ضرور عزت پالیتا ہے كَفَرُ وما التكفير منك ببدعة رسم تقادم عهده المتقدم ہے تو مجھے کافر کہتا رہ اور کافر کہنا کوئی بدعت نہیں تو ایک پرانی رسم چلی آتی قد كفرث من قبل صحب نبينا قالوالام كفرة، وهُم هُم اس سے پہلے ہمارے نبی ﷺ کے اصحاب کا فر ٹھیرائے گئے اور روافض نے کہا کہ یہ ٹیم کافر ہیں اوران کی شان وہی ہے جو ہے أنظر إلى المتشيعين ولعنهم ما غادروا نفسـاتُعَزُّ وتُكرَمُ شیعوں اور ان کی لعنت کی طرف دیکھ جو کسی ذی عزت کو انہوں نے نہیں چھوڑا جاء تک آیاتی فأنت تكذِّبُ شاهدت راياتي فأنت تُكلّم میرے نشان تیرے پاس آئے اور تو تکذیب کر رہا ہے اور میرے جھنڈوں کو تو نے مشاہدہ کیا اور پھر پوشیدہ رکھتا ہے يا من دنـــا مـنـى بسيف زجاجةٍ - فاحذر فإني فارس مستلئِمُ اے وہ شخص جو آبگینہ کی تلوار کے ساتھ میرے پاس آیا مجھ سے ڈر کہ میں سوار زرہ پوش ہوں يُدرِ یک مَن شهد الوقائع أننى بطل وفي صف الوغى متقدم وقائع شناس آدمی تجھے جتلا دے گا کہ میں دلیر ہوں اور جنگ کی صف میں سب سے پہلے كم من قلوب قد شققتُ جذورها كم من صدور قـد كـلـمـتُ وأكلُمُ بہت سے دلوں کی جڑیں میں نے پھاڑ دیں اور بہت سے سینوں کو میں نے زخمی کر دیا اور کرتا ہوں وإذا نطقت فإن نطقى مفحم سيف فيقطع من يكيد ويجذِمُ اور جب میں بولوں تو میر انطق منہ بند کر نیوالا ہے تلوار ہے پس وہ مکر کر نیوالوں کو کاٹ دیتی ہے حاربتُ كل مكذب وبآخَرِ للحرب دائرة عليك فتعلم ہر ایک مکذب سے میں لڑا اور سب سے آخر تیرے پر لڑائی کا چکر آئے گا اور پھر تو جان لے گا يَا لَائِمِى إنّ المكارم كلّها في الصدق فاسُلُكَ سُبُلَ صدقِ تسلَمُ اے میرے ملامت کر نیوالے تمام بزرگیاں صدق میں ہیں پس صدق کا طریق اختیار کر تا سلامت رہے إن كنت أزمعتَ النّضال فإننا نأتي كما يأتي لصيد صيغَمُ اگر تو نے مقابلہ کا قصد کیا ہے پس ہم اس شیر کی طرح آئیں گے جو شکار کیلئے آتا ہے