حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 494

حجة اللہ — Page 205

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰۵ حجة الله وعزوت فتح المباهلة إلى نفسك الأمارة، مع أن الله أذلك وأراك سوء العاقبة۔ وكان (۵۷) اور تو نے فتح مباہلہ کو اپنی طرف منسوب کیا باوجود اس بات کے کہ خدا نے تجھے ذلیل کیا اور بد انجام تجھے دکھلایا اور مرام دعائك المتهالك، أن يجعلني الله كالهالک، فسوّد الله وجهك وأسلمك إلى تیری بہت بہت دعا کا یہ منشاء تھا کہ خدا مجھے مرنے والے کی طرح کرے۔ پس خدا نے تیرا منہ کالا کیا اور ذلت کی قبر لحُدِ الذلّة، وأَدْخلك في جَدَثٍ أضيقَ مِن سمّ الإبرة، وأكرمنى إكرامًا كثيرا بعد المباهلة، میں تجھ کو سونپا اور ایسی قبر میں تجھ کو داخل کیا جو سوئی کے نا کہ سے تنگ تر تھی اور بعد مباہلہ مجھے بہت بزرگی بخشی اور قسم قسم وأعزني وخصنى بأنواع النعمة، حتى ما انقطع آثارها إلى هذا الوقت من الحضرة، وإن فيها کی نعمت سے مجھے خاص کیا یہاں تک کہ اس وقت تک اس کے آثار منقطع نہیں ہوئے۔ اور اس میں غور کرنے والوں الآيات للمتوسمين ۔ وأنت رأيت كلَّ رفعتى وعلائي، ثم انتصبت بترك الحياء بسبى کے لئے نشان ہیں اور تو نے میری تمام بلندی کو دیکھا پھر حیا کو ترک کر کے میری بدگوئی میں تو مشغول ہو گیا اور ہم و إزرائي ۔ وكيف نـأمـن حـصـائـد ألسن الفجار، وما نجا الرسل كلهم من كلمِ اللئام الكفّار ۔ بدکاروں کی زبان سے کیونکر نجات پاسکیں اور کسی رسول نے لیموں کے کلموں سے نجات نہیں پائی لیکن تیرے پر ولكن عليك أن تعى منّى أن غوائل كلامك عليك وأن رأسك تلين بنعليك، وما واجب ہے کہ میری یہ بات یا در کھے کہ تیری کلام کے آفات تجھ پر ہیں اور تیرا سر تیرے ہی جوتوں کے ساتھ نرم کیا ظلمتنا ولكن ظلمت نفسك يا أجهل الجاهلين۔ جائے گا اور تو نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے نفس پر ظلم کیا ۔ أيهـــا الــجهـــول تــحـارب ربك ولا تخشاه، وتختار الفسق و اے جاہل تو اپنے رب سے لڑائی کرتا ہے اور نہیں ڈرتا اور بدکاری کو اختیار کرتا ہے اور نہیں پر ہیز لا تتحـامـاه كـلـمـا تواضعت استكبرت، وكلما أكرمت حقرت ۔ کرتا ۔ جس قدر میں نے تواضع کی تو نے تکبر کیا اور جس قدر میں نے تیری بزرگی کی تو نے تحقیر کی ۔