حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 494

حجة اللہ — Page 194

۱۹۴ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله وإنِّي عُلمتُ مُذ بوركَتْ ،قدمى، وأُيَّدَ لِسُنى وقلمى۔ إن الذين اتخذوا العناد شرعة، اور مجھے اس روز سے جو میرا قدم مبارک کیا گیا۔ اور میری قلم اور زبان کو مدد دی گئی اس بات کا علم دیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے عناد کو وكَلِمَ الخبثِ نُجعة، إنهم سيُخذَلون، ويُغلبون ويُخسَأون، ولا يلقون بغيتهم ولا يُنصرون | اپنا طریقہ پکڑا ہے اور نا پاک کلموں کوغذ اٹھہرایا ہے عنقریب وہ ناکام رہیں گے اور مغلوب کئے جائیں گے اور رد کئے جائیں گے اور اپنی وتحرقهم جذوتهم، فهم من جذوتهم يُعدمون۔ وأما الذين سُعِدوا منهم فسيُهدون بعد مراد کو نہیں پائیں گے اور مددنہیں دیئے جائیں گے اور ان کا شعلہ انہیں کو جلائے گا اور معدوم کئے جائیں گے مگر وہ جو سعید ہیں وہ گمراہی ضلالهم، ويتداركهم رحم ربّهم قبل نكالهم، فيستيقظون مُسترجعين، ويتركون حقدًا کے بعد ہدایت یاب کئے جائیں گے اور وہال سے پہلے خدا کارحم انکو سنبھال لے گا پس انا للہ کہہ کر جاگ اٹھیں گے اور کینے اور ولَدَدًا، ويــخــون عـلـى الأذقان سُجَّدًا، ربنا اغفر لنا إنا كنا خاطئين، فيغفر الله لهم وهو جھگڑے چھوڑ دیں گے اور سجدہ کرتے ہوئے ٹھوڑیوں پر گریں گے خدایا ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے پس خدا انکو بخش دے گا اور وہ ارحم أرحم الراحمين۔ فيومئذ ينعكس الأمر كله ويتجلى الله للناظرين۔ وترى الناس يأتوننا الراحمین ہے۔ پس اس وقت تمام باتیں الٹ جائیں گی اور خدانظر کر نیوالوں کیلئے ظاہر ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ فوج در فوج أفواجًا، وترى الرحمة ،أمواجًا، وتتم كلمة ربّنا صدقا وعدلا، وترى كيف ينير سراجا، ہمارے پاس آتے ہیں اور تو رحمت کو دیکھے گا کہ موجزن ہورہی ہے اور صدق اور عدل سے ہمارے رب کا کلمہ پورا ہو جائے گا اور تو اسے فحينئذ تشرق أيّام الله وتفنى فتن المفسدين۔ ويُقضَى الأمر بإتمام الحجة والإفحام ، دیکھے گا کہ کس طرح چراغ کو روشن کرتا ہے۔ پس اس وقت خدا کے دن چھپکیں گے اور مفسدوں کے فتنے فنا کئے جائیں گے اور اتمام وتهلك الملل كلها غير الإسلام، وترى القترة رهَقتُ وجوه الكافرين۔ فما لكم إلى ما | حجت سے امر پورا کیا جائے گا اور بجز اسلام ہر یک ملت ہلاک ہو جائے گی ۔ اور تو جھوٹھوں کے منہ پر غبار پائے گا۔ پس تمہیں کیا تكذبون؟ أتجعلون رزقـكـم أنـكـم تـكـفـرون؟ أغَـرتـكـم كثـرة عـلـمـائـكـم ہو گیا اور کب تک تم تکذیب کرو گے۔ کیا اس الہی سلسلہ سے تمہارا یہی حصہ ہے کہ تم تکفیر کرو۔ کیا تمہارے علماء کی کثرت اور تمہاری