حجة اللہ — Page 192
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۹۲ حجة الله (۴۴) خَشِيَ الله الأعلى، وما تواضع وما استحيا ، فليُظهِرُ ما نحا وتمنّى، ولينكرِ الله وما أولَى نہ ڈرا اور نہ تواضع کی اور نہ دیا کیا۔ پس چاہیے کہ جو قصد کیا وہ ظاہر کرے اور چاہیے کہ خدا سے اور اس کی بخشش سے منکر ہو جائے اور اس من جدوى، ومن نصرته والعدوى، فسوف ينظر هل ينفعه كيده أو يكون من الهالكين۔ کی نصرت اور عدوی سے یعنی مدد سے انکار کرے۔ پس عنقریب دیکھے گا کہ کیا اس کا مر اس کو نفع دیتا ہے یا مرنے والوں میں سے ہو جاتا ہے۔ أيها الناس، لا تحقروا الله والآيات، واستغفروا الله وَاعْنُوا له من الفُرطَات أجَهِلْتم اے لوگو! خدا کی اور خدا کے نشانوں کی تحقیر مت کرو اور اس سے گناہوں کی معافی چاہو اور اس کے سامنے اپنے گنا ہوں من مال قوم كذبوا من قبل هذا الزمان أو لكم براءة فى زُبر الله الديّان؟ فعُوذوا بالله مِن کے خوف سے فروتنی کرو۔ کیا تمہیں اس قوم کا انجام بھول گیا جنہوں نے تم سے پہلے تکذیب کی ۔ یا خدائے سزاد ہندہ کی کتابوں ذات صدوركم إن كنتم خاشعين ۔ قوموا قُرادَى فرادَى، واجتنبوا من عادا، ثم فكروا أما أُوتيتم میں تمہیں بری رکھا گیا ہے۔ پس اپنے بد خطرات سے خدا تعالیٰ کی طرف پناہ لے جاؤ اگر ڈرنے والے ہو۔ ایک ایک ہوکر مثل ما أوتى قبلكم من الكفّار ؟ أما جاء تكم آيات الله القهّار؟ أما حقرتم بتحقير حضرة کھڑے ہو جاؤ اور عداوت کر نیوالوں سے پر ہیز کرو پھر فکر کرو کہ کیا تمہیں وہ ثبوت نہیں دیئے گئے جو تم سے پہلے کافروں کو الكبرياء ؟ أما قضيت ديونكم كالغرماء ؟ فَوَحَقِّ المنعِم الذى أحلنى هذا المحل دیئے گئے اور کیا تمہارے پاس نشان نہیں آئے۔ کیا تم خدا کی تحقیر کرنے سے حقیر اور ذلیل نہیں ہو چکے۔ کیا تمہارے یہ تمام وأرى لتصديقى العقد والحلّ، ووهب لى الولد وأهلك لى العِدا اللئام، وأرى | قرض قرضداروں کی طرح ادا نہیں کئے گئے ۔ پس اس منعم حقیقی کی قسم ہے جس نے مجھے اس محل میں وارد کیا۔ اور میری في آياته الإيجاد والإعدام و أرى فى ندوة المذاهب إعجاز الإنشاء، تصدیق کیلئے باندھا اور کھولا اور مجھے اولا د دی اور میرے لئے دشمنوں کو ہلاک کیا اور اپنے نشانوں میں ایجاد اور اعدام کو ثم أرى فى الـــعـ ل المقتول إعجاز الإفناء ، وأظهر أية القول دکھلایا اور مذاہب کے جلسہ میں پیدا کرنے کا نشان دکھلایا اور گوسالہ مقتول میں مارنے کا نشان دکھلایا اور قولی نشان اور فعلی