حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 494

حجة اللہ — Page 178

روحانی خزائن جلد ۱۲ وأدبهم، وكانوا عليها مُصرين، ومكروا ومكر الله والله خير الماكرين۔ نور منا حجة الله اور اس پر اصرار کیا۔ اور انہوں نے مکر کیا اور خدانے بھی مکر کیا اور خدا سب سے بہتر مکر کرنے والا ہے۔ فو الله ما فكرتُ في الإملاء والإنشاء ، وما كنتُ من الأدباء والفصحاء ، وما احتاج يراعى پس بخدا میں نے املا اور انشاء میں کچھ فکر نہیں کیا اور میں ادیبوں میں سے نہیں تھا اور میری قلم کسی مددگار کی محتاج نہیں ہوئی۔ إلى من يُراعى كالرفقاء ، بل كنتُ لا أعلم ما البلاغة والبراعة، ولا أدرى كيف تحصل هذه بلکہ میں نہیں جانتا تھا کہ بلاغت کسے کہتے ہیں اور نہیں جانتا تھا کہ یہ صناعت کیونکر حاصل ہوتی ہے۔ پس اس حالت میں کہ میں اس الصناعة ۔ فبينما أنا في حيرة من هذه الإزراء ، وقد تواتر طعنهم كالسفهاء ، إذ صُبّ على قلبي | نکتہ چینی سے حیرت میں تھا اور ان کا طعن سفیہوں کی طرح تو اتر تک پہنچ چکا تھا پس یکدفعہ ایک نور میرے دل پر ڈالا گیا اور ایک چیز السماء ، ونزل على شيء كنزول الضياء ، فصرتُ ذَا مَقْوَل جرى، وقول سحباني، روشنی کی طرح اتری۔ پس میں صاحب زبان رواں اور صاحب قول محبان وائل ہو گیا۔ پس مبارک ہے وہ خدا جو احسن الخالقین ہے فتبارك الله أحسن الخالقين ولكن ما تسلّت به عمايات هذه العلماء ، وظنوا أن رجلا لیکن اس کے ساتھ ان علماء کی نا بینائی دور نہ ہوئی اور گمان کیا کہ ایک شخص نے میری مدد کی ہے یا ایک گروہ نے فضلاء میں سے مدد کی أعانني أو جمعًا من الفضلاء ، وأنها ثمرة شجرة الآخرين ۔ ثم بدا لهم أن يُعارضونى مشافهين ہے اور وہ فصاحت اوروں کے درخت کا پھل ہے۔ پھر ان کو یہ سو بھی کہ دو بدو مجھ سے مقابلہ کریں۔ پس جب میں کھڑا ہوا تو گویا وہ فإذا قمتُ فكأنهم كانوا من الميتين ۔ والآن ما بقى فى كفّهم إلا الرفث والإيذاء ، وكذالك | میت تھے اور اب ان کے ہاتھ میں بجز گالیوں اور ایڈا کے اور کچھ باقی نہیں رہا اوراسی طرح نجفی نے مجھے گالیاں دیں اور نہیں جانتا کہ حیا سبني النجفي وما يدرى ما الحياء ۔ ولكنا لا ندفع السب بالسبّ، وما كان لِحَمامِ أَن يُحجر کیا چیز ہے مگر ہم گالی کو گالی کے ساتھ جواب نہیں دیتے اور کبوتر کی شان میں یہ داخل نہیں کہ اس سوراخ میں داخل ہو جس میں سوسمار نفسه كالضبّ، أو كالتنين وما نشكوه على ما فعل، ولا نتأسف على ما افتعل، فإنهم قوم | داخل ہوتی ہے یا سانپ اور ہم اس شخص کا اسکے کام پر کچھ شکوہ نہیں کرتے اورنہ اسکے بہتان پر کچھ افسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ہیں