حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 494

حجة اللہ — Page 170

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۷۰ حجة الله ۲۲ كالموذيين، وأما بعد نبأ الإلهام، فامتنع من النزاع والخصام، وصار كقلم ردي، وسيف صدى موذیوں کی طرح لڑتا تھا مگر اس پیشگوئی کے بعد وہ چپ ہو گیا اور تمام بحث و مباحثہ اس نے چھوڑ دیا اور ایک ناکارہ قلم کی طرح یا ایک زنگ خوردہ وجَهِلَ أوصافَ المَصاف وأخلافَ الخِلاف، وكنتُ أعطيه أربعة آلاف، إذا قمت لإحلاف، فما تلوار کی طرح بن گیا اورلڑائی کی تعریف کو بھول گیا اور مخالفت کے پستانوں کو فراموش کردیا اور میں نے اس کو قسم کھانے پر چار ہزار روپیہ دینا کیا مگر تألّى، بل ولّى؛ فانظروا أهذه علامة الصادقين؟ ثم إذا انقضت أشهر الميعاد فقسى قلبه ورجع | اس نے قسم نہ کھائی بلکہ منہ پھیر دیا۔ پس دیکھو کیا یہ چوں کی علامتیں ہیں۔ پھر جب میعاد کے مہینے گزر گئے تو اس کا دل سخت ہوگیا اور انکار اور إلى الإنكار والعناد، فلذلك مَاتَ بَعْدَ ما أنكر وأبى، ولو أنكر فى الميعاد لمات فيها وفنى فلا عناد کی طرف اس نے رجوع کر لیا۔ پس وہ اسی لئے مر گیا کہ اس نے انکار کرنا شروع کیا اور اگر میعاد کے اندر انکار کرتا تو میعاد کے اندر ہی مرجاتا۔ شك أن هذا النبأ سود وجوه المنكرين، وأرغَمَ مَعاطِسَ المكذبين، وإن فيه آيات للطالبين، وإنّه پس کچھ شک نہیں کہ اس پیشگوئی نے منکروں کے منہ کو کالا کر دیا اور ان کی ناک کو خاک کے ساتھ رگڑ دیا اور اس میں ڈھونڈ نے والوں کیلئے نشان ہیں اور یہ مكتوب في كتابي "البراهين"، وإنه يوجد في أخبار خاتم النبيين، فآمنوا به إن كنتم مؤمنين۔ پیشگوئی میری کتاب براہین احمدیہ میں لکھی ہوئی ہے او نیز احادیث خاتم الانبیا یا تمایلم میں پائی جاتی ہے۔ پس ایمان لاؤ اگر ایمان ل سکتے ہو۔ و من آیاتى أنّ الأحرار نافسوا في مصافاتي، وآثروا لعن الخلق لموالاتي، وتركوا اور میرے نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ شریف لوگوں نے میری دوستی میں رغبت کی اور میری دوستی کیلئے لعنت خلق کو قبول کیا۔ النفائس نکاتي، وصبوا إلى رؤيتي وجاء وا تحت راياتي، إن في ذلك أنفسهم اور اپنے عزیزوں کو میرے معارف کیلئے چھوڑا اور میرے دیکھنے کی طرف مائل ہوئے اور میرے جھنڈے کے نیچے آ گئے ۔ اس میں لآيات للمتدبرين۔ ومن آياتي أن العدا رغبوا عن معارضتي بعد ما رأوا تدبر کرنے والوں کے لئے نشان ہیں اور منجملہ میرے نشانوں کے یہ ہے کہ دشمنوں نے میرے مقابلہ سے کنارہ کیا بعد اس کے کہ عارضتي، ووجدوا كالبخيل القا ی، بعدما وجدوا عذوبة مقالي میری قوت کلام کو پایا۔ اور بخیل دشمنی رکھنے والے کی طرح غصہ کیا بعد اس کے جو میری شیریں کلامی کو پایا۔