حجة اللہ — Page 158
۱۵۸ حجة الله روحانی خزائن جلد ۱۲ نہ تھا کہ اس عمل میں ہی لڑکا پیدا ہو جائے گا۔ اب بجز اس کے میں کیا کہوں کہ لعنة اللہ علی الکاذبین بے شک مجھے الہام ہوا تھا کہ موعود لڑکے سے قو میں برکت یا ئیں گی مگر ان اشتہارات میں کوئی ایسا الہی الہام نہیں جس نے کسی لڑکے کی تخصیص کی ہو کہ یہی موعود ہے۔ اگر ہے تو لعنت ہے تجھ پر اگر تو وہ الہام پیش نہ کرے۔ ہاں دوسرے حمل میں جیسا کہ پہلے سے مجھے ایک اور لڑ کے کی بشارت ملی تھی لڑکا پیدا ہوا۔ سو یہ بجائے خود ایک مستقل پیشگوئی تھی جو پوری ہوگئی جس کا ہمارے مخالفوں کو صاف اقرار ہے۔ ہاں اگر اس پیشگوئی میں کوئی ایسا الہام میں نے لکھا ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ الہام نے اسی کو موعودلر کا قرار دیا تھا تو کیوں وہ الہام پیش نہیں کیا جاتا ۔ پس جب کہ تم الہام کے پیش کرنے سے عاجز ہو تو کیا یہ لعنت تم پر ہے یا کسی اور پر اور یہ کہنا کہ اس لڑکے کو بھی مسعود کہا ہے۔ تو اے نابکار مسعودوں کی اولا د مسعود ہی ہوتی ہے الا شاذ نادر ۔ کون باپ ہے جو اپنے لڑکے کو سعادت اطوار نہیں بلکہ شقاوت اطوار کہتا ہے۔ کیا تمہارا یہی طریق ہے؟ اور بالفرض اگر میری یہی مراد ہوتی تو میرا کہنا اور خدا کا کہنا ایک نہیں ہے۔ میں انسان ہوں ممکن ہے کہ اجتہاد سے ایک بات کہوں اور وہ صحیح نہ ہو ۔ پر میں پوچھتا ہوں کہ وہ خدا کا الہام کون سا ہے کہ میں نے ظاہر کیا تھا کہ پہلے حمل میں ہی لڑکا پیدا ہو جائے گا یا جو دوسرے میں پیدا ہوگا وہ در حقیقت وہی موعود لڑکا ہوگا اور وہ الہام پورا نہ ہوا۔ اگر ایسا الہام میرا تمہارے پاس موجود ہے تو تم پر لعنت ہے اگر وہ الہام شائع نہ کرو! بقيه حاشيه قلق اس شخص پر وارد ہوتا ہے جو یقین رکھتا ہے یاظن رکھتا ہے کہ شاید عذاب الہی نازل ہو جائے۔ یہ سب علامتیں اس میں پائی گئیں اور وہ عجیب طور پر اپنی بے چینی اور بے آرامی جابجا ظاہر کرتا رہا اور خدا تعالیٰ نے ایک حیرت ناک خوف اور اندیشہ اس کے دل میں ڈال دیا کہ ایک پات کا کھڑ کا بھی اس کے دل کو صدمہ پہونچاتا رہا اور ایک کتے کے سامنے آنے سے بھی اس کو ملک الموت یاد آیا اور کسی جگہ اس کو چین نہ پڑا اور ایک سخت ویرانے میں اس کے دن گذرے اور سراسیمگی اور پریشانی اور بے تابی اور بے قراری نے اس کے دل کو گھیر لیا اور ڈرانے والے خیال رات دن اس پر غالب رہے اور اس کے دل کے تصوروں نے عظمت اسلامی کو رد نہ کیا بلکہ قبول کیا اس لئے وہ خدا جو رحیم و کریم اور سزا دینے میں دھیما ہے اور انسان کے دل کے خیالات کو جانچتا اور اس کے تصورات کے موافق اس سے عمل کرتا ہے ۔ اس نے اس کو اس صورت پر نہ پایا جس صورت میں فی الفور کامل ہادیہ کی سزا