حجة اللہ — Page 157
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۵۷ حجة الله کنارہ کشی اور خاموشی سے ضرور رجوع کا نتیجہ نکالیں گے۔ یہ بار ثبوت آتھم کی گردن پر تھا کہ وہ (9) اقرار خوف کے بعد ہم کو اور ہر ایک منصف کو یہ موقعہ نہ دیتا کہ اس کے اقوال اور افعال سے ہم رجوع کا نتیجہ نکال سکتے۔ بلکہ چاہئے تھا کہ وہ قسم سے یا نالش سے یا کسی اور طرح پر اثبات دعوی سے اپنی اس بزدلی کو جو پندرہ مہینہ تک اس سے برابر ظہور میں آتی رہی اسلامی ہیبت کے وجوہ سے الگ کر کے دکھلاتا ۔ پس یہ بڑی بدذاتی ہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آتھم کے دل نے پیشگوئی کی عظمت کو ایک ذرہ قبول نہیں کیا تھا اور وہ اپنی سابقہ شوخیوں پر میعاد کے اندر برابر قائم تھا۔ ایڈیٹر درة الاسلام لکھتا ہے کہ ایمان کیلئے اقرار باللسان شرط ہے۔ تو اس کا یہی جواب ہے کہ اے نادان الہام میں لفظ رجوع ہے جو در حقیقت فعل قلب ہے اور اس کے لئے اقرار لسان شرط نہیں۔ اقرار لسان معاد کی نجات کیلئے شرط ہے مگر ایسی نجات کیلئے جو صرف دنیا کیلئے ہو صرف دل کا خوف کافی ہے۔ یہ ضرور نہیں کہ کسی مجمع کو گواہ بنایا جائے بلکہ يَكْتُمُ ايْمَانَ کبھی تو قرآن میں موجود ہے۔ پھر یہی شخص لکھتا ہے کہ مارچ ۱۸۸۶ء میں اشتہار دیا تھا کہ لڑکا پیدا ہو گا یعنی بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی لیکن اے نادانو ! دل کے اندھو! میں کب تک تمہیں سمجھاؤں گا۔ مجھے وہ اشتہار ۱۸۸۶ء دکھلاؤ میں نے کہاں لکھا ہے کہ اسی سال میں لڑکا پیدا ہونا ضروری ہے ۔ پھر یہی شخص لکھتا ہے کہ تمہیں اپنے جھوٹھے الہام پر ذرہ شرم نہ آئی ۔ پر میں کہتا ہوں کہ اے سیاہ دل ! الہام جھوٹھا نہیں تھا۔ تجھے میں خود الہی کلام کے سمجھنے کا مادہ نہیں۔ الہام میں کوئی ایسا لفظ غالب آگئی اور کیسے الہامی پیشگوئی کے رعب نے اس کے دل کو ایک کچلا ہوا دل بنا دیا یہاں تک کہ وہ سخت بیتاب ہوا اور شہر بشہر اور ہر ایک جگہ ہراساں اور ترساں پھرتا رہا اور اس مصنوعی خدا پر اس کا تو کل نہ رہا جس کو خیالات کی بھی اور ضلالت کی تاریکی نے الوہیت کی جگہ دے رکھی ہے وہ کتوں سے ڈرا اور سانپوں کا اس کو اندیشہ ہوا اور اندر کے مکانوں سے بھی اس کو خوف آیا۔ اس پر خوف اور وہم اور دلی سوزش کا غلبہ ہوا اور پیشگوئی کی پوری ہیبت اس پر طاری ہوئی اور وقوع سے پہلے ہی اس کا اثر اس کو محسوس ہوا اور بغیر اس کے کہ کوئی امرتسر سے اس کو نکالے آپ ہی ہراساں اور تر ساں اور پریشان اور بیتاب ہو کر شہر بشہر بھاگتا پھرا اور خدا نے اس کے دل کا آرام چھین لیا اور پیشگوئی سے سخت متاثر ہو کر سراسیموں اور خوف زدوں کی طرح جابجا بھٹکتا پھرا اور الہام الہی کا رعب اور اثر اس کے دل پر ایسا مستولی ہوا کہ اس کی راتیں ہولناک اور دن بے قراری سے بھر گئے اور حق کی مخالفت کی حالت میں جو جو دہشتیں اور بقيه حاشيه المؤمن: ٢٩