حُجة الاسلام — Page 68
روحانی خزائن جلد ۶ ۶۶ حجة الاسلام حضرت مسیح علیہ السلام در حقیقت خدا تھے اور وہی خالق ارض وسما تھے۔ اور ہمارا یہ بیان ہے کہ وہ بچے نبی ضرور تھے رسول تھے ۔ خدا تعالیٰ کے پیارے تھے مگر خدا نہیں تھے سو انہیں امور کے حقیقی فیصلہ کیلئے یہ مقابلہ ہوگا مجھ کو خدا تعالیٰ نے براہ راست اطلاع دی ہے کہ جس تعلیم کو قرآن لایا ہے وہی سچائی کی راہ ہے اسی پاک تو حید کو ہر ایک نبی نے اپنی امت تک پہنچایا ہے مگر رفتہ رفتہ لوگ بگڑ گئے اور خدا تعالی کی جگہ انسانوں کو دے دی۔ غرض یہی امر ہے جس پر بحث ہوگی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی غیرت اپنا کام دکھلائے گی اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس مقابلہ سے ایک دنیا کیلئے مفید اور اثر انداز نیتجے نکلیں گے اور کچھ تعجب نہیں کہ اب کل دنیا یا ایک بڑا بھاری حصہ اس کا ایک ہی مذہب قبول کر لے جو سچا اور زندہ مذہب ہو اور جس کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی مہربانی کا بادل ہو۔ چاہیے کہ یہ بحث صرف زمین تک محدود نہ رہے بلکہ آسمان بھی اس کے ساتھ شامل ہوا اور مقابلہ صرف اس بات میں ہو کہ روحانی زندگی اور آسمانی قبولیت (۳۲) اور روشن ضمیری کس مذہب میں ہے اور میں اور میرا مقابل اپنی اپنی کتاب کی تاثیریں اپنے اپنے نفس میں ثابت کریں۔ ہاں اگر یہ چاہیں کہ معقولی طور پر بھی ان دونوں عقیدوں کا بعد اس کے تصفیہ ہو جائے تو یہ بھی بہتر ہے مگر اس سے پہلے روحانی اور آسمانی آزمائش ضرور چاہیے۔ والسلام على من اتبع الهدى خاکسار غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور ۲۳ را پریل ۱۸۹۳ء امرت سر (۲۴ اپریل ۱۸۹۳ء) ترجمہ چٹھی ڈاکٹر کلارک صاحب بخدمت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان جناب من ۔ مولوی عبد الکریم صاحب بمعیت معزز سفارت یہاں پہنچے اور مجھے آپ کا دستی خط دیا۔ جناب نے جو مسلمانوں کی طرف سے مجھے مقابلہ کے لئے دعوت کی ہے اس کو میں بخوشی قبول کرتا ہوں۔ آپ کی سفارت نے آپ کی طرف سے مباحثہ اور شرائط ضروریہ کا فیصلہ کر لیا ہے اور